پابندیوں کے باوجود ایران میں ‘‘شاہد’’ڈرونز کی تیاری جاری
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران پر سخت عالمی پابندیوں کے باوجود ‘‘شاہد’’ خودکش ڈرونز کی تیاری جاری ہے ، کیونکہ ان میں استعمال ہونے والے بیشتر پر زے عام مارکیٹ میں دستیاب اور نسبتاً سستے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران الیکٹرانک چِپس، نیوی گیشن سینسرز، خام مال اور انجن کے بعض حصوں کیلئے اب بھی بیرونی سپلائرز پر انحصار کرتا ہے ۔امریکی وزارت خزانہ کے مطابق ایران نے ہانگ کانگ، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات میں موجود کمپنیوں کے ذریعے ہزاروں سروو موٹرز حاصل کیں، جبکہ یوکرین جنگ میں روس کے زیر استعمال ایرانی ڈرونز کے ملبے سے بھی غیر ملکی ساختہ پرزے ملے ہیں۔ماہرین کے مطابق شاہد ڈرونز کے بعض مائیکرو پروسیسرز کئی برس پرانی ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں، جبکہ عام اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ ان سے کہیں زیادہ جدید الیکٹرانکس رکھتے ہیں، جس کے باعث دوہرے استعمال کے عام پرزوں کی فراہمی روکنا مشکل ہے ۔امریکی حکام کے مطابق ایرانی فوجی صنعت مختلف ممالک میں ثالث کمپنیوں کے ذریعے پرزے خریدتی ہے ۔ پابندیوں سے خریداری مہنگی اور پیچیدہ ہوسکتی ہے ، تاہم اسے مکمل طور پر روکنا مشکل ہے ۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پابندیاں لاگت بڑھانے ، سپلائی میں تاخیر اور بڑے پیمانے پر پیداوار محدود کرنے میں مؤثر ہوسکتی ہیں، تاہم ان کے اثرات فوری سامنے نہیں آتے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments