مصنوعی ذہانت نے کمپیوٹر سائنس کا 25 سال پرانا نظریہ غلط ثابت کرنے کا دعویٰ کر دیا
سان فرانسسکو (اے ایف پی)مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے کمپیوٹر سائنس کے ایک اہم اور تقریباً 25 سال پرانے نظریے کو غلط ثابت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔۔۔
اوپن اے آئی اور اینتھروپک نے اعلان کیا کہ ان کے ایک ایک مصنوعی ذہانت کے ماڈل نے ‘‘ایکسپونینشل ٹائم ہائپوتھیسس’’ (ETH) کو غلط ثابت کر دیا ہے ،یہ نظریہ کہتا ہے کہ بعض مسائل اس قدر پیچیدہ ہوتے ہیں کہ کمپیوٹر انہیں حل کرنے کے لیے تقریباً تمام ممکنہ جوابات آزمانے پر مجبور ہوتے ہیں، کمپیوٹر سائنس اور حیاتیات کے شعبوں میں ہونے والی سینکڑوں تحقیقی مطالعات اس نظریے پر انحصار کرتی ہیں،یہ دعویٰ مصنوعی ذہانت کے ان متعدد حالیہ نتائج میں تازہ ترین ہے جنہوں نے علمی و تحقیقی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے ۔ بالخصوص ریاضی دانوں میں انسانی مہارت کی اہمیت اور ان کے پیشے کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے ،یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کے محققین رسل امپاگلیاتسو اور راماموہن پاتوری نے تقریباً 25 سال قبل یہ نظریہ پیش کیا تھا،ایم آئی ٹی کے معروف محقق ریان ولیمز طویل عرصے سے اس نظریے پر اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں،اب یہ تینوں سائنس دان مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے دعوؤں کا آزادانہ جائزہ لینے کے عمل کو منظم کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments