انتخابی اصلاحات کمیٹی:حکومت،اپوزیشن سے نام طلب :سپیکر کا شہباز شریف، یوسف گیلانی ،محمود اچکزئی کو خط
وزیراعظم کو بطور قائد ایوان 15 اراکین ، چیئرمین سینیٹ کو 10 سینیٹرز کے نام اور اپوزیشن لیڈرقومی اسمبلی کو 5 اراکین کے نام بھجوانے کی درخواست ، نام ملتے ہی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جائیگا انتخابی اصلاحات کسی ایک جماعت نہیں مشترکہ قومی معاملہ :طارق فضل، آپکے 15 ہمارے 5ارکان، ایسے بیٹھنے سے نہ بیٹھنا بہتر :گوہر ، پیپلزپارٹی کی اپوزیشن کو کمیٹی میں شمولیت کی باضابطہ دعوت
اسلام آباد(وقائع نگار، نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی حکومت نے انتخابی اصلاحات کیلئے 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا عمل شروع کر دیا جبکہ آئندہ انتخابات کو شفاف اور قابل اعتماد بنانے کیلئے انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینے اور پارلیمانی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں۔دوسری طرف سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے انتخابی اصلاحات کمیٹی کے معاملہ پر وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمو خان اچکزئی کو خط لکھ کر اراکین کے نام بھجوانے کی درخواست کردی ، نام ملتے ہی 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے انتخابی اصلاحات کے معاملے پر اپوزیشن کو باضابطہ مذاکرات کی دعوت دینے کا فیصلہ کرلیا،حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں شفافیت کیلئے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی جائے گی،وزیراعظم نے انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹی میں شامل کرنے کی ہدایت کر دی ۔ الیکشن اصلاحات کیلئے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کیلئے بیرسٹرعقیل ملک نے سینیٹ میں قرارداد پیش کر دی ۔ میڈیا رپورٹس کے سپیکرقومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزیراعظم کے نام خط میں وزیراعظم کو بطور قائد ایوان 15 اراکین کے نام دینے کی درخواست کی ہے ، اسی طرح چیئر مین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کو 10 سینیٹرز کے نام بھجوانے اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کو 5 اراکین کے نام بھجوانے کا کہا ہے ،خط میں تینوں رہنماؤں کو جلد از جلد نام بھجوانے کی درخواست کی گئی ہے ، نام ملتے ہی 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا،سپیکر قومی اسمبلی نے حکومت اور اپوزیشن کے چیف وہپ کو بھی خطوط لکھے ہیں۔
وزیراعظم کے نام خط وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری کے حوالے کیا گیاہے ، کمیٹی میں نمائندگی حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کے تناسب سے ہوگی، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس سے قبل پارلیمانی کمیٹی تشکیل پانے کا امکان ہے ،سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے تینوں خطوط لکھے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی روایات کے مطابق ہر سیاسی جماعت کو ایوان میں اس کی تعداد کے تناسب سے نمائندگی دی جائے گی۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کے آئندہ اجلاسوں سے قبل پارلیمانی کمیٹی تشکیل دئیے جانے کا امکان ہے جس کے بعد انتخابی اصلاحات سے متعلق امور پر کمیٹی کی سطح پر کام شروع کیا جا سکے گا۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ قومی اسمبلی سے الیکشن ریفارمز کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی جا چکی جس کے بعدسپیکر قومی اسمبلی جلد کمیٹی کے قیام کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے ،کمیٹی اراکین کے ناموں کو حتمی شکل دینے کا عمل ابھی باقی ہے ، قومی اسمبلی میں جب موشن پیش کی گئی تو تحریک انصاف نے اس کی مخالفت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ کمیٹی 30 ارکان پر مشتمل ہوگی جس میں قومی اسمبلی سے 20 جبکہ سینیٹ سے 10 اراکین شامل ہوں گے ، کمیٹی میں نشستوں کی تقسیم ایوان میں جماعتوں کی عددی تناسب کے تحت ہو گی، کمیٹی کی تشکیل کا مقصد انتخابی نظام میں بہتری، شفافیت اور اصلاحات کے لیے پارلیمانی سطح پر مشاورت اور اتفاقِ رائے کو فروغ دینا ہے ۔ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی انتخابی اصلاحات کے عمل میں اپوزیشن سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کی مثبت، تعمیری اور قابلِ عمل تجاویز کو مناسب اہمیت دی جائے تاکہ ایک ایسا انتخابی نظام تشکیل دیا جا سکے جو شفافیت، اعتماد اور جمہوری اقدار کو مزید مضبوط بنائے ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کا مشترکہ قومی معاملہ ہیں، اس مقصد کے حصول کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی مشاورت اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہئے ۔ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے انتخابی اصلاحات کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کی برابر کی نمائندگی کا مطالبہ کردیا۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آپ کے 15 ہمارے 5ارکان ، ایسے بیٹھنے سے تو نہ بیٹھنا بہتر ہے ،انتخابی اصلاحات کے لیے حکومت اور اپوزیشن کی نمائندگی برابر ہونی چاہیے ، انتخابی اصلاحات غیرجانبدار اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی انتشار کا پوری قوم مل کر مقابلہ کرتی ہے ، اندرونی انتشار ملک کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے ، ملک میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے سیاسی رہنماؤں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ ادھر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر پیپلزپارٹی کی نائب صدرسینیٹر شیری رحمن کی زیر قیادت وفد نے سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کے چیمبر میں جا کر اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی اور انہیں انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی میں شمولیت کی دعوت دی۔ پی پی وفد میں نیئر حسین بخاری،ندیم افضل چن اور سینیٹر وقار مہدی شامل تھے جبکہ اپوزیشن وفد میں علامہ راجہ ناصر عباس،محمود خان اچکزئی،نور الحق قادری اور سینیٹر علی ظفر شامل تھے ۔ پیپلزپارٹی کے وفد نے شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو مشترکہ تجاویز مرتب کرنے کا کہا۔اس موقع پر سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اعتماد کا حامل انتخابی نظام وضع کرنا پیپلزپارٹی کا مقصد ہے ،اپوزیشن جماعتیں انتخابی اصلاحات کمیٹی میں اپنی تجاویز پیش کریں ،انتخابی عمل پر بار بار اٹھنے والے سوالات پارلیمان کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں،شفاف، آزادانہ ، منصفانہ انتخابات ووٹرز کے حقوق کے تحفظ اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لئے ناگزیر ہیں ، انتخابی اصلاحات کمیٹی اپنی سفارشات منظوری کیلئے پارلیمان میں پیش کرے گی۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے انتخابات میں شفافیت مؤثر بنانے کی تجویز سے اتفاق کیا۔
بعدازاں میڈیا سے گفتگو میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدرسینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ ہم چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر آج اپوزیشن وفد سے ملنے گئے ، چیئرمین کے کہنے پر دونوں ایوانوں کی جو الیکٹورل ریفارمز کی کمیٹیاں بن رہی ہیں اس میں تمام جماعتیں اپنی شمولیت یقینی بنائیں، ہم نے اپوزیشن سے کہا کہ اس کمیٹی میں لازمی آئیں،اپنا فعال کردار ادا کریں اور اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کریں ،کمیٹیاں پارلیمانی امور کا دل ہوتی ہیں اس میں اگر وہ غیر حاضر ہوں تو ان کے تحفظات کو کیسے دور کیا جائے گا، ہر دور کے اپنے چیلنجز ہوتے ہیں ہمارا تو کہنا ہے کہ وہ ہر سٹینڈنگ کمیٹی میں بھی آئیں،جن کا انہوں نے بائیکاٹ کر رکھا ہے ،ہم ہر دور میں الیکٹورل ریفارمز کا میثاق کرتے آئے ہیں، اپوزیشن رہنماں نے ہماری بات جذبہ خیر سگالی سے سنی اور کہا کہ ہم مشاورت کر کے آپ کو جواب دیں گے ، انہوں نے چیئرمین بلاول بھٹو کا خصوصی شکریہ ادا کیا، ہمیں امید ہے وہ ہماری تجاویز کا مثبت جواب دیں گے ۔ ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی اور علامہ ناصرعباس نے پی ٹی آئی قیادت سے مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے تاہم اپوزیشن نے کمیٹی میں شرکت کرنے کا عندیہ دیا ،اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے چند گھنٹوں میں پی پی وفد نے دوسری ملاقات کی جس میں علامہ راجہ ناصر عباس نے انتخابات میں شفافیت مؤثر بنانے کی تجویز سے اتفاق کیا۔ذرائع کے مطابق کمیٹی 2024 کے عام انتخابات، ضمنی انتخابات، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلیوں کا جائزہ لے گی، دھاندلیوں کے ذمہ داران کا تعین کرکے آئندہ کیلئے اس کا راستہ روکے گی جبکہ کمیٹی شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے سفارشات بھی مرتب کرے گی ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments