پولینڈ میں آئینی عدالت کا سربراہ معطل، پولیس کا ایوان عدل پر قبضہ، شہریوں کا احتجاج
وارسا: (ویب ڈیسک) پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی نے آئینی عدالت میں پولیس کی کارروائی اور عدالت کے سربراہ کی معطلی کے بعد اپنا دورہ سینیگال ملتوی کردیا اور طیارہ واپس وطن لے آئے۔
پولش صدر کارول ناوروکی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ موجودہ صورت حال میں ان کی موجودگی پولینڈ میں ضروری ہے۔
پولیس نے دارالحکومت وارسا میں آئینی ٹریبونل کی عمارت کو اپنے کنٹرول میں لے لیا، جس کے بعد درجنوں مظاہرین عدالت کے باہر جمع ہوگئے، مظاہرین نے عدالت کے سربراہ بوگدان شفیچکوسکی کی معطلی کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض افراد نے اہلکاروں پر خطرناک اشیا بھی پھینکیں۔
پولینڈ میں عدلیہ کا معاملہ وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک کی یورپ نواز حکومت اور سابق حکمران جماعت قانون و انصاف پارٹی کے درمیان تنازع کا اہم سبب بنا ہوا ہے۔ ٹسک حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ عدلیہ کی آزادی بحال کرنا چاہتی ہے، جبکہ اپوزیشن اسے آئینی اداروں پر غیرقانونی قبضے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔
سابق وزیراعظم ماتیوش موراویتسکی اور سابق وزیر انصاف زیبگنیو زیوبرو نے بھی پولیس کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے عدالتی نظام میں مداخلت قرار دیا۔
پولینڈ میں امریکی سفیر ٹام روز نے بھی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی عدالت کی خودمختاری اور حکومتی اختیارات کے استعمال پر غیرمعمولی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے، انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ معاملہ مزید بگڑنے سے روکا جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments