امریکا میں قبل ازالیکشن ووٹنگ،4کروڑ 30لاکھ سے زائد کاسٹ

 امریکا میں قبل ازالیکشن ووٹنگ،4کروڑ 30لاکھ سے زائد کاسٹ

روزانہ 40 سے 50 لاکھ کے درمیان قبل از وقت ووٹ ڈالے جا رہے ہیں 44 فیصد ڈیموکریٹس، 31.2 فیصد ریپبلکنز، 24.7 فیصد غیر وابستہ ووٹ کاسٹ

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک )امریکا میں وسط مدتی انتخابات آئندہ دو برس کے لیے یہ طے کریں گے کہ کانگریس پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا۔ اس سے قبل ہی 4 کروڑ   30لاکھ سے زیادہ امریکی اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں۔یونیورسٹی آف فلوریڈا الیکشن لیب کے اعداد و شمار کے مطابق روزانہ 40 سے 50 لاکھ کے درمیان قبل از وقت ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، جو گزشتہ بیشتر انتخابات کے مقابلے میں کہیں زیادہ شرح ہے ۔ڈیٹا بیس چلانے والے پروفیسر مائیک میک ڈونلڈ کے مطابق اب تک اوسط سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ ٹیکساس میں دیکھا گیا ہے ۔ ہسپانوی نژاد امریکی برادریوں میں بھی ووٹنگ کی شرح معمول سے نمایاں طور پر زیادہ ہے ۔مجموعی طور پر ووٹر ٹرن آؤٹ 2020 کے مقابلے میں زیادہ رہنے کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے اور ممکن ہے کہ 2018 کا ریکارڈ بھی ٹوٹ جائے ، جس نے 1914 کے بعد کسی بھی وسط مدتی انتخاب میں سب سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ ٹیکساس میں 2022 کے مقابلے میں تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار زیادہ ووٹرز پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ریاست میں 58 لاکھ سے زائد بیلٹ کاسٹ ہو چکے ہیں۔

ٹیکساس ایک اہم انتخابی میدان بن کر ابھرا ہے ، جمعرات کے اعداد و شمار کے مطابق قبل از وقت ڈالے گئے ووٹوں میں سے 44 فیصد ڈیموکریٹس، 31.2 فیصد ریپبلکنز اور 24.7 فیصد غیر وابستہ ووٹرز کے تھے ۔ تاہم یہ اعداد و شمار صرف ان تقریباً نصف ریاستوں سے متعلق ہیں جہاں سیاسی وابستگی درج کرنا لازمی ہے ۔شمالی کیرولائنا، جارجیا اور فلوریڈا وہ تین ریاستیں ہیں جہاں رجسٹریشن کے وقت نسلی شناخت بھی درج کرنی ہوتی ہے ۔ ان ریاستوں کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہسپانوی اور سیاہ فام برادریوں کی ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے ، جبکہ سفید فام ووٹرز کی شرکت 2022 کی قبل از وقت ووٹنگ کے برابر ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...