ریپبلکن پارٹی مین ٹرمپ کیخلاف غصہ شکست کی وجہ ایران کیساتھ جنگ: نائب صدر
لوگوں نے صدر کی پالیسیوں کو پسند نہیں کیا،سیاسی تباہی کے ذمہ دار ٹرمپ ہی ہیں:ریپبلکنز کا ردعمل الیکشن کے بعد پارٹی قومی سطح پر ایک گہرے گڑھے میں جا گری ہے :فلوریڈا گورنرران ڈی سینٹس
واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)ریپبلکن پارٹی میں منگل کی رات سامنے آنے والے حیران کن انتخابی نتائج پر ابتدائی صدمے نے جلد ہی امریکی صدر کے خلاف غصے کی شکل اختیار کر لی۔ٹیکساس، کنساس اور جنوبی کیرولائنا جیسی مضبوط ریپبلکن ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی غیر متوقع کامیابیوں کے بعد بعض ریپبلکن رہنماؤں نے اپنی ناراضی کا رخ ٹرمپ کی جانب موڑ دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اپنی سیاسی میراث پر ضرورت سے زیادہ توجہ اور ووٹروں کے مسائل سے لاتعلقی نے پارٹی سے کانگریس کا کنٹرول چھین لیا۔مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن حکمتِ عملی ساز گریگ پیپن نے کہا،یہ ایک کے بعد ایک غلطی تھی۔انھوں نے مزید کہا ‘واضح طور پر ریاست در ریاست لوگوں نے صدر کی پالیسیوں کو پسند نہیں کیا۔ٹرمپ کے ایک قریبی وائٹ ہاؤس اتحادی نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ، محصولات اور انتظامیہ کی امیگریشن کے خلاف سخت کارروائی نے ایک مکمل طوفانی صورتحال پیدا کر دی، جس کے بعد صدر کے خلاف غصہ انتہائی بلند سطح پر پہنچ گیا ہے ۔ریپبلکن لابیسٹ بل ملر نے وسط مدتی انتخابات کے نتائج واضح ہونے کے فوراً بعد کہا ذمہ داری ان ہی پر عائد ہوتی ہے ۔ کسی اور پر نہیں۔ یہ صدر ٹرمپ کو مکمل اور دوٹوک طور پر مسترد کیے جانے کا اظہار ہے ۔ یہ انتہائی درجے کی سیاسی تباہی ہے ۔
کسی نے بھی اس پیمانے کے نتائج کی توقع نہیں کی تھی۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ریپبلکنز کے کانگریس کا کنٹرول کھونے کا سبب بنی۔ نائب صدر نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایک تفصیلی بیان میں کہا:ہماری شکست کی وجہ جنگ تھی۔ یہ بیان انتخابات کے بارے میں غیر معمولی طور پر کھلا اور صاف گو تجزیہ سمجھا جا رہا ہے ۔وینس نے تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور دیگر مسائل کے باعث وہ ریپبلکن ووٹرز، جنھوں نے 2024 میں انھیں اور صدر ٹرمپ کی حمایت کی تھی، اس سال جماعت سے دور ہو گئے ۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ووٹرز کو انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں پر بھی اعتراضات تھے اور وہ بعض اصلاحات کے لیے آمادگی رکھتے ہیں۔وینس نے نشاندہی کی کہ گزشتہ شب ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے عوامی ناراضی کا ذکر کیا تھا۔ تاہم عوامی سطح پر کئی ماہ تک جنگ کی حمایت کرنے کے بعد نائب صدر نے اس معاملے پر ٹرمپ کے مقابلے میں زیادہ دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔اس بیان کے بعد 2028 کے صدارتی انتخاب کے حوالے سے وینس کے ممکنہ منصوبوں پر قیاس آرائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے ، کیونکہ مبصرین کا خیال ہے کہ انھوں نے اس موقع کو وائٹ ہاؤس کی دوڑ میں شامل ہونے کے اشارے کے طور پر استعمال کیا ہے ۔فلوریڈا کے گورنر ران ڈی سینٹس نے کہا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد ریپبلکن پارٹی کو تقریباً معدومیت کے درجے کا دھچکا لگا ہے ۔ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سبکدوش ہونے والے ریپبلکن گورنر نے کہا کہ ان نتائج کے اثرات بہت بڑے ہوں گے اور یہ شاید وسط مدتی انتخابات کے لیے بدترین ممکنہ سیاسی منظرنامہ ثابت ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی جماعت سینیٹ میں دو یا تین نشستیں بھی کھو دیتی، تب بھی امریکی سینیٹ کا کنٹرول برقرار رکھنا ایک کامیابی سمجھا جاتا۔انھوں نے کہا ہم جانتے تھے کہ صورتحال اس سے زیادہ خراب ہو سکتی ہے ، لیکن میرا نہیں خیال کہ ہم میں سے اکثر نے اتنی بری کارکردگی کے بارے میں سوچا ہوگا۔ڈی سینٹس نے مزید کہا کہ اس انتخاب کے بعد پارٹی قومی سطح پر ایک گہرے گڑھے میں جا گری ہے ۔یہ واشنگٹن میں ریپبلکنز کو مسترد کیے جانے کا اظہار تھا، نہ کہ اس بات کا کہ ووٹروں نے ڈیموکریٹس کے بارے میں کوئی مثبت رائے قائم کر لی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments