پاکستان کاجغرافیائی محلِ وقوع اور ترقی کے مظاہر
پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اقتصادی امکانات سے بھرپور ہے۔ مشرقِ وسطیٰ‘ وسطی ایشیا اور چین کو دنیا کے دیگر حصوں کے ساتھ ملانے کا مختصر اور پائیدار راستہ ہماری سرزمین اور ہمارے پانیوں سے گزرتا ہے؛ چنانچہ دنیا کے اس بڑے حصے کی تجارتی راہداریوں کا یہ امکانی سنگم پاکستان کو اس خطے کے دیگر ممالک پر قابل ذکر فضیلت عطا کرتا ہے‘ مگر ان امکانات کی راہ میں علاقائی مسائل حائل رہے ہیں۔ مثال کے طور پر افغانستان کا انتشار اور وسطی ایشیا کی داخلی صورتحال۔ ان حالات میں پاکستان کی بحری اور زمینی راہداریوں کے مواقع سمٹے ہوئے اور محدود رہے؛ تاہم مستقبل میں متوقع مثبت علاقائی تبدیلیوں اور استحکام کے ماحول میں ان جغرافیائی امکانات کے بروئے کار آنے کا یقینی امکان موجود ہے‘ اور ایسا ماحول بن رہا ہے جسے اس خاکے میں رنگ بھرنے کی جانب پیشرفت کا آغاز قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کی پہلی بڑی مثال پاک چین اقتصادی راہداری کو قرار دیا جاتا ہے جو چین کو مشرق وسطیٰ کے توانائی کے وسائل سے جوڑنے اور چینی مصنوعات کو دنیا تک لے جانے کا بہترین‘ پائیدار اور کارآمد راستہ ہوگا۔
دوسری جانب وسطی ایشیا کی ریاستیں ہیں‘ جن کے ساتھ تجارت کی راہ میں فی الوقت افغانستان کے مسائل حائل ہیں‘ مگر افغان مسئلے کے متوقع حل کی صورت میں مستقبل سے جو امیدیں وابستہ ہیں‘ ان میں وسطی ایشیا کی ریاستوں کے پاکستان کے راستے دنیا کے ساتھ جڑنے کا امکان بھی شامل ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اگلے روز کراچی میں میری ٹائم کانفرنس سے خطاب میں پاکستان کے جیواکنامک مرکز بننے کی جو بات کی اسے اسی تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے‘ مگر ان ممکنہ تجارتی اور اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے حکومتی عزم بنیادی شرط ہے۔ ہماری حکومتوں کو اپنے وطن کی علاقائی اہمیت کا ادراک ہونا چاہیے اور ممالک اپنے محل وقوع سے جو فوائد اٹھاتے ہیں پاکستان کو بھی اپنی جغرافیائی پوزیشن سے یہ فوائد حاصل کرنا چاہئیں۔ ماضی میں اس جانب غوروفکر اور عملی پیشرفت میں کوتاہی کی گئی۔ اس کا فائدہ ہمارے دشمنوں کو اس طرح حاصل ہواکہ ہمارے قریب ترین ہمسایہ ملک افغانستان کو بھارت ہمارے ہی خلاف ایک اڈے کے طور پر استعمال کرتا آرہا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ صورتحال بدستور چیلنجنگ ہے کیونکہ افغانستان سے اٹھنے والے خطرات کا تدارک نہیں کیا جاسکا۔
ہمارے رہنماؤں کو ادراک ہونا چاہیے کہ پاکستان کا زمینی و بحری محل وقوع ایسی حقیقت ہے جو اس خطے کا کوئی ملک بھی نظرانداز نہیں کرسکتا‘ مگر ان مواقع کو بروئے کار لانے کیلئے جس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے‘ وہ تو ہماری حکومتوں نے ہی کرنا ہے۔ سی پیک کی صورت میں اس جانب اوپنگ ہو چکی ہے اور پاکستان میں بلیو اکانومی کی جانب توجہ کا رجحان بھی پروان چڑھ رہا ہے‘ مگر یہ صرف آغاز ہے‘ اسے ابھی بہت آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ حکومت اور ادارے ان رجحانات کو سمجھیں جو پاکستان کو بطور تجارتی راہداری خطے میں اہم پوزیشن دلا سکیں۔ یقینا امن ترقی اور خوشحالی کی تمام سرگرمیوں کی بنیادی ضرورت ہے؛ چنانچہ پاکستان کو خطے میں امن و ترقی کیلئے بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ افغانستان میں امن عمل کیلئے جو کوششیں کی گئیں‘ ان کو کوئی بھی نظرانداز نہیں کرسکتا‘ مگر اس عمل کے نتیجہ خیز ہونے میں تاخیر سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ افغانستان میں تشدد میں بھی اضافہ ہورہا ہے جس سے امن عمل کی کامیابیاں متاثر ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ ہماری حکومت اور اداروں کی یہاں متنوع ذمہ داریاں ہیں‘ یعنی اپنے جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت اور ثمرات سے فائدہ اٹھانا‘ خطے میں پاکستان کا قائدانہ کردار اور مجموعی طور پر امن و سلامتی اور ترقی کا وہ ماحول جس میں اس خطے کے انسان بہتر زندگی گزار سکیں۔ یہ کردارچیلنجنگ ضرور ہیں‘ ناممکن نہیں۔