یومِ آزادی کے تقاضے اور ہم
پاکستانی قوم آج 74واں یوم آزادی منا رہی ہے۔ آزادی کا دن اقوام اور ممالک کی تاریخ کے اہم ترین ایام میں سرفہرست ہوتا ہے۔ اس دن کو ایسا سنگ میل قرار دے سکتے ہیں جہاں سے من حیث القوم نئی امنگوں کے ساتھ ایک سفر شروع کیا جاتا ہے۔ مسلمانان ہند کے اس الگ وطن کے حصول مقصد کے ساتھ جڑے خوابوں کی تعبیر ہی اس سفر کی منزل ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے تصور کی نظریاتی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ بر صغیر میں دو قومیں آباد ہیں‘ ہندو اور مسلمان‘ جنہیں سماجی تاریخ‘ مکانی قرب اور ایک ہی ماحول کی سکونت بھی گُھلا ملا نہیں سکی۔ یہ مسلمانوں کی نظریاتی‘ فکری اور نفسیاتی انفرادیت ہی تھی کہ بر صغیر میں ان کے ہزار سالہ دورِ حکمرانی میں کوئی تاریخی دورانیہ بھی ایسا نہیں ملتا جب مسلمانوں نے ہندی تہذیب میں اپنی الگ شناخت کو کھو دیا ہو۔ ثقافتی‘ لسانی‘ روایتی اور فکری اعتبار سے ہندوستان کے مسلمان اس خطے کی پوری تاریخ میں ایک الگ قوم کی طرح موجود رہے ہیں اور مسلمانوں میں قومی سطح پر ایسی کوئی بااثر تحریک بھی جنم نہیں لے سکی جس نے اس شناخت کو ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہو۔
یوں مسلمانوں میں بطور قوم انفرادیت کا وجود بر صغیر کی تاریخ میں نمایاں طور پر موجود رہا ہے۔ رسوم و رواج‘ کھانا پینا‘ پہناوے‘ رہن سہن کے آداب‘ علمی و ادبی اثاثے اور فکری رجحانات غرض ہر طرح سے انفرادیت کا وجود باقی رہا ہے۔ یہی تاریخی تناظر درپیش سیاسی حالات کے نتیجے میں حصول پاکستان کی تحریک کا سبب بنا۔ 23 مارچ 1940ء کو لاہور میں مسلم لیگ کے تاریخی جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اس تصور کو یوں بیان کیا کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف مذاہب‘ فلسفے‘ سماجی رسوم اور ادب کو مانتے ہیں۔ وہ نہ آپس میں شادیاں کرتے ہیں نہ اکٹھے کھاتے ہیں‘ فی الحقیقت دو مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں جو متصادم تصورات پر قائم ہیں۔ اس کے تصوراتِ حیات مختلف ہیں‘ ان کے ہیروز اور کہانیاں بھی مختلف ہیں‘ بعض اوقات ایک کا ہیرو دوسرے کا حریف قرار پاتا ہے۔ ان کی فتوحات اور شکستوں کا بھی یہی حال ہے۔ اسی خطاب میں آگے چل کر قائد اعظمؒ کا کہنا تھا کہ قوم کی کسی بھی تعریف کے اعتبار سے مسلمان ایک قوم ہیں اور ان کے پاس اپنا وطن‘ اپنا علاقہ اور اپنی ریاست ہونی چاہیے۔ اس نظریاتی بنیاد میں پاکستان کو ایک مثالی ریاست بنانے کی خواہش اور عزم محسوس کیا جا سکتا ہے مگر پون صدی کے اس عرصے میں ان مقاصد کے حصول اور پاکستان کو ایک مثالی ریاست بنانے میں ہم کس قدر کامیاب ہوئے ہیں‘ یہ سوال صرف حکمرانوں سے نہیں بطور شہری ہم میں سے ہر ایک کو خود سے بھی پوچھنا چاہئے‘ کیونکہ مثالی ریاست کا قیام صرف حکمرانوں کے کرنے کا کام نہیں‘ فی الحقیقت ہر شہری اس کے لیے اپنی سطح پر ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے سوال کیا جانا چاہیے۔
حکمرانوں پر یہ ذمہ داری اگرچہ بدرجہ اتم عائد ہوتی ہے کہ بطور رہنما وہ قوم کے لیے سیدھی راہیں متعین کرنے کے ذمہ دار ہیں مگر قافلے میں شامل ہر فرد اپنی حد تک بھی ذمہ دار ہے۔ بد قسمتی سے وطن عزیز میں اگر پون صدی میں بھی مثالی ریاست کے خواب تشنہ تکمیل ہیں تو اس کی ذمہ داری جہاں حکمران طبقے پر عائد ہوتی ہے وہیں عوام بھی اس خرابی میں حصہ دار ہیں؛ چنانچہ اس خرابی کا ازالہ اسی صورت ممکن ہے کہ ہم سبھی اپنی کوتاہیوں کو قبول کریں‘ دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانا اور خود کو شک کا فائدہ دے کر بچانا آسان راستہ اور خود کو معیار کی کسوٹی پر پرکھنا اور تنقید کے لیے پیش کرنا مشکل ہے‘ مگر عظیم قومیں اسی طرح بنتی ہیں جب افراد جز پر کُل کو ترجیح دینے کا حوصلہ پیدا کریں۔ ہمیں قومی سطح پر ایک نئی پہل کی ضرورت ہے جو ہمارے ماضی کی کرتوتوں سے ہمیں کاٹ کر ان مثالی اصولوں کی پیروی پر کاربند کر سکے جو حصول پاکستان کے بنیادی مقاصد اور اسلام کے ریاستی اور شہری نظام کی روح قرار دیے جاتے ہیں۔ ہمیں بطور قوم خود کو امن‘ بھائی چارے‘ انصاف‘ جذبۂ حب الوطنی‘ اتحاد‘ ایمان اور تنظیم کے اصولوں میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں پاکستان کی عالمی اور علاقائی حیثیت اور ذمہ داریوں کا بھی احساس ہونا چاہیے۔ مسلم دنیا کی ایک بااثر ریاست ہونے کے علاوہ پاکستان جنوبی ایشیا کے خطے میں بھی اہم ترین حیثیت کا مالک ہے۔ یہ حیثیت کچھ تو پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے ہے اور کچھ عالمی اور علاقائی سیاست اور اصولوں پر پاکستان کے موقف کی وجہ سے‘ مگر اس حیثیت کو مزید تقویت دی جا سکتی اور ان مواقع کو مزید بہتر انداز سے بروئے کار لایا جا سکتا ہے‘ اس لیے ماضی کی نسبت مستقبل میں پاکستان کی عالمی سیاسی حکمت عملی زیادہ معقول‘ دور اندیشانہ اور قومی مفادات کے تحت تشکیل پانی چاہئے۔ کسی کا مہرہ بن جانا یا کسی کی خوشنودی یا مفاد میں استعمال ہو جانا ایسی خطا ہے جس کا ازالہ آسانی سے ممکن نہیں۔ ہم نے ماضی میں جو غلطیاں کیں انہی کی سزا سے جان چھڑانا مشکل ہو رہا ہے اس لیے آنے والے وقت میں اسی سوراخ سے دوبارہ ڈسے جانے کا کوئی جواز نہیں۔ خطے کی نازک صورتحال میں ہمیں جذباتیت کے بجائے معقولیت کے ساتھ قدم اٹھانے چاہئیں اور کوشش کرنی چاہیے کہ باہر سے لگائی گئی اس آگ کو پاکستان اور اس کے علاقائی اتحادی جہاں تک ہو سکے پھیلنے سے روکیں۔ یہی آج کے دن کا تقاضا اور یومِ آزادی منانے کی اصل روح ہے۔ اجتماعی کو انفرادی مفادات پر ترجیح دیے بغیر حقیقی ترقی کی منزل حاصل نہیں کی جا سکتی۔