اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سیلاب زدگان کی مدد کیلئے قومی یکجہتی کی ضرورت

وزیر ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمن نے متواتر بارشوں اور سیلابی صورتحال کو غیر معمولی انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال کا مقابلہ کرنا کسی ایک صوبے یا ملک کے بس میں نہیں‘ اس کیلئے اقوام متحدہ سے مدد طلب کی جائے گی نیز امداد کیلئے عالمی اپیل بھی کی جائے گی۔ وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی کے مطابق ان سیلابوں سے پنجاب‘ سندھ اور بلوچستان میں آٹھ کروڑ افراد متاثر ہوئے اور ان کی شدت 2010ء کے میگا فلڈ سے بھی زیادہ ہے کیونکہ اُس سیلاب کا پانی دریاؤں کے اندر تھا جس سے دریاؤں کا قریبی علاقہ ہی متاثر ہوا مگر شدید بارشوں کے اس سیلاب کے اثرات وسیع تر نوعیت کے ہیں‘ جن سے جنوبی پنجاب‘ سندھ اور بلوچستان کا بڑا حصہ شدید متاثر ہوا ہے۔ وسط جون سے اب تک مسلسل بارشوں کی وجہ سے آبی ذخائر مکمل بھر چکے ہیں‘ دریاؤں میں بھی پانی کی سطح بلند ہے مگر بارشوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور یہ ستمبر تک جاری رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ ان حالات میں متاثرہ علاقوں میں نقصانات میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ جو کچھ ہوایہ قدرتی آفات کے زمرے میں آتا ہے اور اس پر قابو پانا کسی کے بس میں نہ تھا‘ البتہ بروقت اقدامات سے اس کے نقصانات کو کم کیا جاسکتا تھا۔ مگر جو صورتحال خوفناک المیے میں تبدیل ہو چکی ہے‘ معلوم ہوتا ہے کہ بروقت اقدامات میں تاخیر کا اس میں بڑا عمل دخل ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے اس سال جون میں آگاہ کیا گیا تھا کہ مون سون سیزن میں معمول سے زیادہ بارشیں ہو سکتی ہیں مگر ایسا نہیں لگتا کہ اس خدشے کو مد نظر رکھتے ہوئے اربن فلڈنگ کی صورت میں بچاؤ کے بہتر انتظامات اور بروقت تیاری کی گئی۔ سیاسی صورتحال توجہ کا محور رہی اور سیلاب زدگان کی جانب توجہ اسی وقت ہوئی جب واقعتاً پانی سر سے گزر چکا تھا اور پنجاب‘ سندھ اور بلوچستان کے بڑے حصے میں سیلاب کی تباہ کاریاں اپنا اثر دکھا چکی تھیں۔ اب ہماری حکومت کو احساس ہوا ہے کہ اس صورت حال کو سنبھالنا اس کے بس میں نہیں اور اقوام متحدہ سے مدد طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں سے خیموں‘ دواؤں اور خوراک کے بحران کی خبریں تواتر سے آ رہی ہیں اوراقوام متحدہ کی جانب سے امداد پہنچنے تک سیلاب زدگان کو بھوک‘ شیلٹر اور بیماریوں کی صورت میں مزید مشکلات سے گزرنا پڑے گا۔ متاثرہ علاقوں میںبارشیں مسلسل جاری رہی ہیں اور یہ سلسلہ آنے والے کئی روز تک جاری رہنے کی اطلاعات ہیں جس سے سیلاب زدگان کی مشکلات اور نقصانات میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ ملک کے رفاہی ادارے ان حالات میں متاثرین کیلئے امدادپہنچا رہے ہیں مگر ان کے متحرک ہونے میں بھی دیر ہوئی اور رفاہی اداروں کی کپیسٹی کا سوال بھی ہے۔ اس ہنگامی صورتحال میں عوام‘ خاص طور پر سمندر پار پاکستانیوں سے امداد کی اپیل خاصی مددگار ثابت ہو سکتی تھی مگر یہ فیصلہ ہونے میں بھی تاخیر ہوئی۔ مگر ان اپیلوں سے قبل حکومت کو سیلاب زدگان کی جانب متوجہ ہونا چاہیے تھا۔ وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی نے حالیہ صورتحال کو 2010 ء کے بڑے سیلاب سے شدید قرار دے کر ہماری آنکھیں کھول دی ہیں مگر 2010 ء اور آج کے حالات میں جو فرق نمایاں ہے وہ یہ کہ اُس وقت سیلاب زدگان کے مصائب سے آگاہی اور ان کی بروقت امداد کیلئے حکومتی اور عوامی سطح پر آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنجیدگی پائی جاتی تھی‘ اس کا نتیجہ عالمی تعاون کی صورت میں بھی سامنے آیا۔ اگر حالیہ سیلاب اُس میگا فلڈ سے زیادہ خطرناک ہیں تو ضروری ہے کہ حکومت 2010ء کی حکومت کے مقابلے میں زیادہ فکرمندی اور سنجیدگی دکھائے؛ تاہم ایسے حالات میں ذمہ داری صرف حکومتوں پر عائد کردینا کافی نہیں‘ اصولی طو ر پر اس کیلئے قومی یکجہتی کی ضرورت ہوتی ہے اور سیاسی اختلافات کو بھلا کر قومی اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے ساتھ کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں