مہنگائی، اسباب اور روک تھام
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت مہنگائی عروج پر ہے‘ جب ہم نے حکومت سنبھالی تھی تو انتہائی مخدوش حالات تھے‘ آئی ایم ایف معاہدہ ٹوٹ چکا تھا اور تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر تھیں‘ سیلاب نے ہمارے لیے مزید چیلنجز پیدا کیے‘ حکومت مسائل کے حل کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ جنابِ وزیراعظم کا بیان اس حوالے سے خوش آئند ہے کہ کم از کم حکومت نے عوامی مشکلات کا ادراک تو کیا ہے اور تسلیم کیا ہے کہ مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے؛ تاہم حکومت اس حوالے سے کیا اقدامات کر رہی ہے‘ یہ تاحال ایک معمہ ہے۔ ابتر معاشی حالات میں حکومت کی حکمتِ عملی توانائی بچانے اور مارکیٹیں جلد بند کرانے تک محدود نظر آتی ہے جس سے گمان گزرتا ہے کہ حکومت تاحال عوامی مشکلات کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ اس حوالے سے اگر مسابقتی کمیشن کی مہنگائی کے حوالے سے رپورٹ کو پیشِ نظر رکھا جائے تو اس میں 10 بنیادی اشیائے خور و نوش‘جو ایک اوسط گھرانے کے ماہانہ اخراجات کا 63 فیصد بنتی ہیں‘ کی قیمتوں میں اضافے کو اجناس کی کھیتوں سے منڈیوں اور دکانوں تک فروخت کے نظام میں رکاوٹوں، ناجائز منافع خوری اور ٹرانسپورٹیشن کے بلاجواز کرایوں کا شاخسانہ بتایا گیا ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق غذائی اجناس کی قیمتوں میں مالی سال2021ء کے مقابلے میں مالی سال 2022ء میں 35 فیصد اضافہ ہوا۔ پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں اور ٹرانسپورٹیشن کے بڑھتے اخراجات اگرچہ مہنگائی میں ایک بنیادی عامل ہیں‘ مگر ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور منڈی سے دکانوں تک فروخت کے نظام میں حائل رکاوٹیں بھی گرانی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ دریں حالات اگر یہ کہا جائے کہ محض پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرنے اور انتظامی غفلت اور مارکیٹ پر اپنی رِٹ مضبوط کرنے سے حکومت مہنگائی کی شرح کو نصف کر سکتی ہے تو غلط نہ ہو گا۔ اس وقت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گزشتہ ایک سال کی نچلی ترین سطح پر ہیں مگر ملکی سطح پر ان کی قیمتوں سے 50 سے 60 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ عالمی سطح پر مسلسل گرتی قیمتوں کے ثمرات عوام تک منتقل ہی نہیں کیے جا رہے۔ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے‘ انتظامی معاملات میں سختی اور منڈیوں کی نگرانی کے عمل کو مہمیز دے کر ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کی جائے تو مہنگائی کی شرح کو قابلِ ذکر حد تک نیچے لایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ انٹرنیشنل مارکیٹ کے فیکٹر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ خوردنی تیل سمیت متعدد اشیا کی قیمتیں عالمی منڈی کے اتار چڑھائو سے طے ہوتی ہیں؛ تاہم اس حقیقت کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ تیل دار اجناس کی کاشت کو فروغ دے کر خوردنی تیل کی عالمی منڈی پر ملکی انحصار کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک دوررس مگر راست اقدام ہے۔ اسی طرح بجلی کی پیداوار کے حوالے سے اگر ملکی پیدواری ذرائع اور قابلِ تجدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے تو مہنگے تیل کے درآمدی بل کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ بجلی کے استعمال میں کفایت شعاری کے فروغ کی کوشش اچھی ہے مگر لائن لاسز کو کنٹرول کر کے حکومت اس ضمن میں اپنی سنجیدگی کا ثبوت فراہم کر سکتی ہے۔مخدوش معاشی حالات اور مہنگائی کی عالمی لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنے رویوں میں بھی تبدیلی لانا ہو گی۔ تعیشات اور غیر ضروری اشیا کی امپورٹ مکمل طور پر ختم کرنا ہو گی۔ علاوہ ازیں ٹیکس کی شرح کو کم کر کے معاشی پھیلائو کو بڑھایا جا سکتا ہے جس سے بیروزگاری کی شرح بھی کم ہو گی۔ عالمی سطح پر نظر دوڑائی جائے تو ترکیہ سے سیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح اس نے عالمی کساد بازاری کے اس دور میں مہنگائی کی شرح میں تاریخی کمی ہے۔ عالمی کساد بازاری اور مہنگائی کی لہر کے باوجود گرانی کی شرح کو کنٹرول کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے‘ ضرورت فقط عزمِ صمیم اور پختہ ارادے کی ہے۔