اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بجلی مزید مہنگی

نیپرا نے اکتوبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں تین روپے سے زیادہ کا اضافہ کر دیا ہے جس کا اطلاق لائف لائن اور کے الیکٹرک صارفین کے علاوہ باقی سب صارفین پر ہوگا۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جبکہ ملک میں مجموعی مہنگائی کی شرح 29فیصد سے زائد ہے اور تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اس ہوشربا مہنگائی کی بڑی وجہ بجلی و گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئے روز ہونے والا بے تحاشا اضافہ ہے۔ نچلے تو کیا اب متوسط طبقے کے لیے بھی روز بروز کم ہوتی معاشی سکت کے پیش نظر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو چکا ہے کہ وہ اپنی محدود آمدنی سے مہنگے یوٹیلیٹی بل ادا کرے یا مہینے کا راشن پورا کرے۔ مہنگی بجلی کی بڑی وجوہات میں پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ‘ جو کہ ڈھائی کھرب روپے سے زائد ہے‘ لائن لاسز اور بجلی کی پیداوار کا زیادہ انحصار مہنگے فیول سے پیدا ہونے والی بجلی پر ہونا ہے۔ ملک میں پانی‘ سورج کی شعاعوں اور ہوا سے سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا کرنے کے لیے یہ قدرتی وسائل میسر ہونے کے باوجود ان سے کما حقہٗ فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔مہنگی بجلی گھریلو صارفین کی مشکلات میں تو اضافہ کر ہی رہی ہے لیکن ساتھ ہی صنعتی اور برآمدی شعبے پر مہنگی توانائی کی وجہ سے لاگت میں ہونے والے اضافے کے باعث شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور صنعتی پہیہ رواں رکھنے کے لیے سستی اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع اپنائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں