بلوچستان میں دہشت گردی
بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات ایک بار پھر یہ ثابت کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں قومی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ یکم فروری کو بلوچستان کے ضلع قلات میں دہشت گردوں کے حملے میں 18 سکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے جبکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 23 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ قبل ازیں28 جنوری کو بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں ایک چیک پوسٹ پر حملے میں پاک فوج کے دو جوان شہید ہوئے اور پانچ دہشت گردوں کو جوابی کارروائی میں ہلاک کیا گیا۔پچھلے چند سال کے دوران بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال دہشت گردی کے 92فیصد واقعات انہی دو صوبوں میں پیش آئے۔ افغانستان کی سرحد سے متصل دونوں صوبوں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی میں افغان عنصرکے کافی شواہد ملتے ہیں اور سرحد پار سے دہشت گردی کی اعانت کے یہ عوامل نہایت تشویشناک ہیں ، جن کا پائیدار حل تلاش کیے بغیر دہشت گردی کے خطرات سے یقینی تحفظ کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ افغانستان میں پناہ گزین دہشت گرد‘ جو کہ افغانستان میں چھوڑے ہوئے امریکی اسلحے اور دفاعی آلات سے لیس ہیں‘ پاکستان کیلئے مستقل خطرہ ہیں۔ چند روز قبل دفترِ خارجہ نے بھی افغانستان میں امریکی ہتھیاروں کی موجودگی کو ملک اور شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کیلئے باعثِ تشویش قرار دیا تھا۔ بلوچستان میں بین الاقوامی معاشی اور تجارتی منصوبے زیر تکمیل ہیں اور معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کی راہیں ہموار کی جارہی ہیں تاہم دہشت گردی کے مسلسل واقعات اس ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ نیکٹا کے مطابق 2001ء سے لے کر 2022ء تک دہشتگردی کی وجہ سے ملکی معیشت کو 35 ٹریلین روپے کا نقصان ہو ا۔ اگرچہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں معاشی حوالے سے استحکام کی جانب پیشرفت نظر آتی ہے‘ تاہم اس عرصے میں دہشت گردی کے واقعات میں جو شدت آئی ہے اس کے معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس صورتحال میں ملک کو سرمایہ کاری کی ایک ابھرتی ہوئی منزل کے طور پر پیش کرنا اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پُر کشش ماحول بنانا کسی چیلنج سے کم نہیں۔ ملک میں پائیدار امن کے قیام‘ دہشت گردی کے خاتمے اور معاشی استحکام کی کوششوں کو کارآمد بنانے کیلئے ساری قومی قیادت کا متحد ہونا بے حد ضروری ہے۔ دسمبر 2014ء میں‘ جب دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا تو ساری قوم متحد ہو گئی اور یہ اسی اعتماد اور عزم کا نتیجہ تھا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ممکن ہوا۔ مگر آج جب ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت ہے تو قومی سیاسی قیادت اختلافات اور باہمی انتشار کا شکار ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مکمل کامیابی کیلئے ہمیں اندرونی سطح پر اتحاد قائم کرنا ہو گا اور یکسو ہو کر دہشت گردوں کے بیانیے کو شکست دینا ہو گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر ایک جامع حکمت عملی ترتیب دیں جو عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی مذاکرات اور سماجی و اقتصادی ترقی پر مبنی ہو۔ بلوچستان کے عوام کے جائز مطالبات کو سننا اور ان کے مسائل کا حل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور دہشت گردی کے واقعات ان اقدامات میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کو یہ حقیقت باور کروانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں غیر ملکی مداخلت اور دہشت گرد گروہوں کی بیرونی حمایت کو روکنے کے لیے سفارتی سطح پر بھی مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ملکِ عزیز کی سلامتی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کریں اور ملک کو امن و ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔