معاشی اقدامات کے اثرات
آئی ایم ایف کی جانب سے سات ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے پہلے جائزے کی رپورٹ کا مثبت تاثر معاشی حوالے سے اہم ہے۔ 24فروری سے 14مارچ تک جاری رہنے والے مذاکرات اور معاشی جائزے کے اختتام پر مالیاتی ادارے کی مشن چیف کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے موجودہ قرض پروگرام پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے۔آئی ایم ایف کے اعلامیے میں پاکستان کی جانب سے مالی استحکام ‘ افراطِ زر اور شرح سود کم کرنے کے اقدامات اورتوانائی کے شعبے میں اصلاحات کو قرض پروگرام کی دوسری قسط کے اجرا کیلئے سٹاف لیول معاہدے کیلئے اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔یوں مالیاتی ادارے سے قرض پروگرام کی ایک ارب ڈالر کی قسط ملنے کا قومی امکان پیدا ہوتا ہے۔معاشی اصلاحات کے حوالے سے حکومت نے ایک سال میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے مگر اس ضمن میں ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر نجکاری‘ جو کئی لحاظ سے معیشت کی ضرورت ہے اور عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے بھی اس پر زور دیا جاتا ہے‘ مگر اس حوالے سے پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ جہاں تک توانائی کے شعبے کی بات ہے تو پانی سر سے گزرنے لگا تو بعض اصلاحی اقدامات کی جانب توجہ دی گئی جن کا اثر بجلی کی قیمتوں میں معمولی کمی سے ظاہر ہے۔ مگر ٹیکس اصلاحات کی بات کی جائے تو برائے نام اصلاحات نظر آتی ہیں ۔ معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں جو بڑے خلا تھے وہ اب بھی بڑی حد تک اسی طرح ہیں۔ صوبائی حکومتوں نے زرعی انکم ٹیکس کے قوانین تو منظور کر لیے ہیں اور زراعت کو کارپوریٹ شرح سے ٹیکس کا مستوجب قرار دیا گیا ہے تاہم پرچون اور تھوک فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے مقاصد حسب توقع پورے نہیں ہو سکے۔ٹیکس ‘ توانائی اور نجکاری کے شعبوں میں اصلاحات کو پہلی ترجیح بناناہو گا ‘ یہ معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنے کیلئے ناگزیر ہے۔ آئی ایم ایف کا پاکستانی معاشی کامیابیوں کو تسلیم کرناحوصلہ افزا ہے ضروری ہے کہ استحکام کے اقدامات کو بڑھایا جائے ۔ صرف آئی ایم ایف ہی نہیں اس سے قبل دیگر مالیاتی ادارے مثال کے طور پر ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی معاشی سمت کی درستی کو تسلیم کر چکے ہیں‘ لیکن معیشت کا استحکام ترقی میں نظر آنا چاہیے۔ ہمارے ہاں رواں مالی سال کی معاشی ترقی کا تخمینہ تین فیصد ہے۔ ترقی کی اس معمولی رفتار کیساتھ معیشت کا وہ مومینٹم نہیں بن سکتا جو روزگار کے مطلوبہ مواقع مہیا کر سکے۔ پاکستان جیسے نوجوان آبادی والے ملکوں میں روزگار کی مارکیٹ کو تیز کرنے کیلئے اس سے دوگنا گروتھ درکار ہوتی ہے۔ اس کیلئے پیہم کوشش کرنا ہو گی۔ معیشت کا سیدھی راہ پر آ جانا بڑا معرکہ ہے ‘ اب یہ اس سطح پر ہے کہ سالانہ بنیادوں پر ترقی کی رفتار میں دوگنا اضافہ بھی ہو سکتا ہے بشرطیکہ توانائی‘ ٹیکس اور تحفظ کے معاملات تسلی بخش ہوں۔ فی الحال ہمیں مہنگی توانائی اور ٹیکسوں کی بہتات کے علاوہ سکیورٹی کے تحفظات کا بھی سامنا ہے۔ کچھ سال سے یہ صورتحال بتدریج خراب تر ہوتی چلی گئی ہے۔ اب حالات یہ ہیں کہ ہمارا ملک دہشتگردی کے شکار ممالک میں سر فہرست آ تا ہے ‘ اسکے اثرات معیشت اور معاشرت میں چھپائے نہیں چھپتے۔ اس صورتحال کی اصلاح کرنا ہو گی تا کہ پاکستان کے معاشی امکانات کی جانب دنیاکی توجہ ہو اور ترقی کا پہیہ تیزی سے حرکت کر سکے۔ معاشی استحکام کے لیے مربوط اور دیرپا اقدامات کی اہمیت سب پر فائق ہے۔ بد قسمتی سے ماضی میں سیاسی اتھل پتھل کی وجہ سے معاشی ڈھانچہ ڈانواں ڈول رہا ہے جس کااثرمعاشی منصوبہ بندی کے نقائص کی صورت میں موجود ہے۔ اگر معاشی بنیادیں مضبوط اور پائیدار پالیسیوں کی سطح پر رکھی جائیں اور مسلسل کام کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا گزارا قرض پر ہو۔ معاشی پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے قومی پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔