پاکستان، چیلنجز اور امکانات
یوم پاکستان کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کو بابائے قوم کی تصور کردہ قوم میں بدلنے کے لیے ثابت قدمی اور اجتماعی وژن کی ضرورت ہے‘ جبکہ صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستانی اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر تقسیم اور منفی رجحانات کو مسترد کریں۔ یوم پاکستان تجدید عہد کا دن کہلاتا ہے۔ اس دن کی اہمیت یہ ہے کہ سال کے آنے والے دنوں میں اسی عہد کو پیش نظر رکھیں اور طے شدہ قومی اہداف کے حصول کی کوشش کریں۔ وزیراعظم اور صدرِ مملکت کے پیغامات بھی قومی عہد ہی تو ہیں‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی تشکیل کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں۔ وزیراعظم نے پاکستانی قوم کو بابائے قوم کے تصور کے مطابق ڈھالنے کا ذکر کیا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح کا تصورِ قوم ایک جدید‘ متحد اور خودمختار اسلامی ریاست پر مبنی تھا جہاں تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں۔ ان کے نزدیک قوم کسی مخصوص نسل‘ زبان یا علاقے کی بنیاد پر نہیں مشترکہ نظریے‘ ثقافت اور اصولوں پر تشکیل پاتی ہے۔ قائداعظم کے نزدیک کامیاب قوم وہی ہے جو انصاف‘ مساوات اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر کاربند ہو۔ قائداعظم نے ایک ایسی قوم کا خواب دیکھا تھا جو جدید‘ ترقی پسند اور باوقار ہو‘ جہاںبدعنوانی‘ اقربا پروری اور ناانصافی نہ ہو۔ پاکستان کو ترقی یافتہ ریاست بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ہم ان اصولوں پر عمل کریں اور مضبوط‘ متحد اور خوشحال قوم بنیں۔ اس سلسلے میں سیاسی قیادت پر پیش روی کا فرض عائد ہوتا ہے۔ سیاسی قیادت کا عمل‘ کردار اور رویہ اس سلسلے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر یہ برداشت‘ احترام اور جمہوری روایات کی پاسداری پر مبنی ہوگا تو اس کا اثر عوام پر بھی ہوگا اور یہ رویہ پاکستان کو نکھارنے اور سنوارنے کا سبب بنے گا۔ سیاسی رہنما دست وگریباں رہیں گے تو مشکل ہے کہ عوام اس مزاج کی منفیت کے اثر سے بچ سکیں۔ بلاشبہ پاکستان اس وقت غیر معمولی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ معیشت‘ سیاست اور سکیورٹی کے امور خصوصی توجہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ حکومت معاشی استحکام کی دعویدار ہے مگر معاشی نمو‘ روزگار کے مواقع اور عوامی قوتِ خرید میں اضافہ یقینی بنانے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی حالات بدستور بے یقینی کا شکار ہیں اور ہمہ وقت ٹکراؤ کا ماحول جوں کا توں ہے۔ حزبِ اختلاف کی جماعتیں عید کے بعد سیاسی احتجاج کا عندیہ دے رہی ہیں۔ سیاسی احتجاج اور بے یقینی کی صورتحال بذات خود معاشی استحکام کی کوششوں کیلئے بڑا چیلنج ہے۔ ان حالات میں سکیورٹی کے چیلنجز بھی خاصی شدت اختیار کر چکے ہیں‘ جن کا سرحد پار سے براہِ راست تعلق ہے۔ افغان طالبان کی پاکستان میں حمایت اس نقطہ نظر سے تھی کہ وہ باہمی تعلقات کی بہتری‘ حساسیت اور مفادات کا خیال رکھیں گے‘ مگر جب سے طالبان کی عبوری حکومت آئی ہے پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ ان واقعات کا کھرا افغانستان جاتا ہے مگر طالبان اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں سے پہلوتہی کر رہے ہیں۔ ابھی گزشتہ روز پاک فوج نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے افغانستان کی جانب سے شدت پسندوں کے ایک گروہ کی پاکستان میں دراندازی کی کوشش کو ناکام بنایا۔ افغانستان کی جانب سے اس قسم کے چیلنجز ممکنہ طور پر رہیں گے اور اس کے سدباب کیلئے مؤثر انتظامات کی ضرورت بھی رہے گی مگر داخلی سطح پر ہمیں جس بات کی اشد ضرورت ہے وہ سیاسی اور دیگر اختلافات سے بالاتر ہو کر تقسیم اور منفی رجحانات پر قابو پانا ہے۔ سرحدوں کے تسلی بخش انتظامات کیلئے مسلح افواج پر اعتماد کیا جا سکتا ہے مگر ملک کے اندر بگاڑ کے اندیشوں کے سدباب اور قومی یکجہتی کیلئے سیاستدانوں اور دیگر سماجی رہنماؤں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان کے چیلنجز گمبھیر ہیں مگر بے مثال امکانات کے ساتھ ان چیلنجز سے نمٹنا مشکل نہیں‘ عزم اور ارادہ شرط ہے۔