دہشت گردی کے واقعات
دہشت گردی کے واقعات میں پچھلے چند برسوں کے دوران مسلسل اضافہ ہوا اور ہر آنے والا سال پہلے سے زیادہ دہشت زدہ رہا۔سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھنے والے اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں سال اکتوبر میں ملک میں دہشت گردی کے 89جبکہ ستمبر میں 69واقعات ہوئے۔ دہشت گردانہ حملوں میں اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے‘ تاہم انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافے کی وجہ سے شدت پسندوں کو بڑے پیمانے پر جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ حالیہ کچھ عرصہ کے دوران ٹی ٹی پی کی قیادت کے کئی سرغنوں کو سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں جہنم واصل کیا گیا۔ ان کارروائیوں میں‘ 2007ء کے بعد ‘ٹی ٹی پی کی قیادت کے سب سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔ بلوچستان میں بھی سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں میں گزشتہ ماہ جتنے دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا وہ 2002 ء کے بعد کسی ایک مہینے کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

انتہاپسند وںکا جانی نقصان ان کیخلاف نتیجہ خیز کارروائیوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔ یقینا اس سے دہشت گرد گروہوں کی کمر ٹوٹے گی اور دہشت گردی میں کمی آئے گی ‘ تاہم رواں سال دہشت گردی کے مجموعی واقعات کی تعداد کے اعتبار سے گزشتہ کئی سالوں سے زیادہ مہلک ثابت ہوا ہے اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان اسکا سب سے بڑا ہدف ہیں۔ گزشتہ ماہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 37 اور بلوچستان میں 23واقعات ہوئے ۔ یہی رجحان پچھلے کئی ماہ سے بلکہ حالیہ چند برسوں سے جاری ہے ۔ملک کے یہ دو صوبے ‘ جن کی سرحد افغانستان کیساتھ ملتی ہے‘ دہشت گردی کے غیر معمولی خطرات سے نمٹ رہے ہیں۔پاکستان میں21 20ء کا سال دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے ایک واضح حد فاصل دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ملک میں دہشت گردی کے واقعات کا شماریاتی جائزہ لیا جائے تو 2010 ء سے2013 ء کے دوران دہشت گردی کے واقعات کی تعداد سالانہ ڈیڑھ سے دو ہزار تک پہنچ گئی تھی مگر 2014 ء کے بعد ان میں نمایاں کمی آئی۔افواج پاکستان نے 2009 ء میں آپریشن راہ نجات اور 2014ء میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا.
جس نے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کیے اور نہ صرف قبائلی پٹی سے دہشتگردوں کا صفایا کیا گیا بلکہ ملک کے اندرونی حصوں سے بھی دہشتگردی کی باقیات ‘ سہولت کاروں اور آماجگاہوں کو ختم کیا جس کے بعد ملک عزیز میں ایک مدت کے بعد امن بحال ہوا۔ 2015 ء کے بعد کے برسوں میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی۔ تاہم 2021 ء کے بعد امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر خرابی کی جانب بڑھتی نظر آنے لگی۔ 2021 ء میں دہشتگردی کے 268واقعات رپورٹ ہوئے جو کہ اس سے پہلے کے تین برسوں سے زیادہ تھے۔ مگر 2022ء اور اس کے بعد ہر سال دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے علاقے دہشتگردی کے ان واقعات کا ہدف رہے۔ مقام ِشکر ہے کہ سکیورٹی کے مضبوط حصار کی بدولت دہشت گردی کے ناسورکو ملک کے دیگر حصوں تک پھیلنے سے روکنے میں کامیابی حاصل ہوئی تاہم ملک کے وہ صوبے جن کی طویل سرحد افغانستان سے ملتی ہے دہشت گردی کے نشانے پر ہیں۔
دہشت گردی کی اس صورتحال میں افغانستان کا عمل دخل ظاہر و باہرہے ؛چنانچہ ضروری ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ افغانستان کی عبوری حکومت سے یہ مطالبہ پچھلے چار برس کے دوران پاکستانی حکام کی جانب سے مسلسل جاری ہے مگر اس پر تسلی بخش عمل درآمد نہیں ہوا اور حالات بدستور اُسی ڈگر پر ہیں بلکہ ہر سال دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ پائیدار امن افغانستان کی زمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال بند ہونے اور دراندازی کو مؤثر طور پر روکنے سے مشروط ہے۔