طبی سہولتوں کا فقدان
وزیراعلیٰ پنجاب کے سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں زائدالمیعاد ادویات اور انجکشن استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے‘جو بچوں کی جانوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق بیشتر طبی عملہ بھی ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا گیا جبکہ ڈیوٹی پر موجود عملے کا مریضوں کے ساتھ رویہ بھی نہایت تلخ تھا۔ یہ صورتحال کسی ایک ہسپتال کا مسئلہ نہیں ‘ صحت کے شعبے کی مجموعی زبوں حالی کی عکاسی کرتی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی کے باعث مریض مہنگی ادویات باہر سے خریدنے اور ٹیسٹ مشینیں خراب ہونے کے باعث ٹیسٹ بھی مہنگی نجی لیبارٹریوں میں کرانے پر مجبور ہیں۔ حکومت کو سرکاری ہسپتالوں میں معیاری علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔

علاوہ ازیں طبی عملے کو مریضوں کے ساتھ رحم دلانہ رویہ اختیار کرنے کا پابند بنایا جائے اور ہسپتالوں میں آڈٹ اور مانیٹرنگ کے مستقل نظام کو فعال کیا جائے۔ اگر سرکاری ہسپتالوں میں یہ اصلاحات بروقت نہ کی گئیں تو نہ صرف مریضوں کی زندگیاں خطرے میں رہیں گی بلکہ عوامی اعتماد بھی سرکاری نظام سے ختم ہو جائے گا۔ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف رپورٹیں مرتب کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے سرکاری ہسپتالوں کو حقیقی معنوں میں محفوظ‘ شفاف اور مؤثر علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کام کرے۔