اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

معاشی حقائق کا منظر نامہ

وزارتِ خزانہ کی جاری کردہ اکنامک اَپ ڈیٹ آئوٹ لُک کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں معاشی استحکام برقرار رہا ‘مہنگائی قابو میں‘ زرِمبادلہ کے ذخائر مضبوط اور روپے کی قدر مستحکم ہے۔ تاہم یہ رپورٹ اقتصادی حوالے سے کئی تشویشناک اشاریوں کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ مالی سال کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر 25ء) کے دوران برآمدات میں پانچ فیصد کمی آئی ‘درآمدات میں 12.3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 43 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ جولائی سے دسمبر تک بیرونی سرمایہ کاری کا کل حجم 81کروڑ ڈالر رہا جو گزشتہ سال اسی مدت میں ایک ارب 42کروڑ ڈالر تھا۔ صرف دسمبر کے مہینے میں بیرونی سرمایہ کاری میں ساڑھے تیرہ کروڑ ڈالر کا خالص اخراج ہوا۔ اگرچہ رواں ماہ کے ابتدائی 16دنوں میں ٹریژری بلز میں 11کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری بھی رپورٹ ہوئی ہے‘ جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا ایک مثبت اشارہ ہے مگر دیکھا جا رہا ہے کہ سرمایہ کار پاکستان کے میکرو اکنامک استحکام پر بھروسہ نہیں کر رہے۔

طویل مدتی منصوبوں کے بجائے وہ قلیل مدتی منافع (ہاٹ منی) حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایسی صورت میں ملک میں سرمایہ تو آتا ہے مگر یہ سرمایہ نہ تو نئی صنعتیں لگانے کے لیے ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ سرمایہ کار دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور بڑے منصوبوں میں پیسہ لگانے سے پہلے مزید سیاسی ومعاشی استحکام کے خواہاں ہیں۔ حکومت کی جانب سے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل اور دیگر ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدوں کے باوجود دیرپا سرمایہ کاری میں کمی اُنہی مسائل کا شاخسانہ قرار دی جا سکتی ہے‘ ہماری معیشت کو طویل مدت سے جن کا سامنا ہے۔ ان میں پالیسیوں میں عدم تسلسل‘ سیاسی عدم استحکام‘ مہنگی توانائی اور بڑھتی پیداواری لاگت جیسے مسائل سرفہرست ہیں۔ بجلی کے بلند نرخ اور علاقائی ممالک کی نسبت کاروبار کرنے کی زیادہ لاگت طویل مدتی مینوفیکچرنگ اور سرمایہ کاری منصوبوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

اگرچہ آئوٹ لک رپورٹ لارج سکیل مینو فیکچرنگ میں چھ فیصد اضافہ ظاہر کر رہی ہے مگر برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ صنعتی بندش یا محدود صنعتی پیداوار کو ظاہر کر رہا ہے۔ یہ امر معاشی ذمہ داران کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے کہ پہلی ششماہی میں درآمدات 31ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔ اگر یہ رجحان یونہی برقرار رہا تو مالی سال کے اختتام تک درآمدات62ارب ڈالر کی بلند سطح پر پہنچ سکتی ہیں۔ دوسری جانب سکڑتی برآمدات بھی معاشی اعتبار سے مثبت اشارہ نہیں ہیں۔ برآمدات میں اضافہ‘ درآمدات میں کمی اور بیرونی سرمایہ کاری کا رجحان؛ یہی وہ بنیادی معاشی اشاریے ہیں جو مضبوط اور مستحکم اقتصادی بنیادوں کی نشاندہی کرتے ہیں مگر پاکستان کے معاملے میں یہ تینوں اشاریے منفی ہیں۔ مختصراً یہ کہ اس وقت پاکستانی معیشت ترسیلاتِ زر اور غیر ملکی قرضوں کے سہارے عبوری استحکام کے کنارے پر کھڑی ہے۔

غیر یقینی عالمی حالات میں معیشت کا دوبارہ ڈگمگا جانا خارج از امکان نہیں اس لیے بہتر ہو گا کہ اس عبوری استحکام کو غنیمت سمجھتے ہوئے دیرینہ مسائل کے حل پر متوجہ ہوا جائے۔ توانائی کی قیمتوں اور ٹیکسوں کی شرح کو اعتدال پر لانا صنعتی لاگت کو خطے کے دیگر ممالک کی سطح پر لانے کیلئے ناگزیر ہے۔ جب صنعتی پہیہ رواں ہو گا‘ پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو گا‘ تبھی برآمدات میں اضافے‘ درآمدات میں کمی اور پائیدار معاشی استحکام کی امید وابستہ کی جا سکتی ہے۔ خوشنما اعداد و شمار سے معیشت کا مثبت تاثر تو اجاگر کیا جا سکتا ہے مگر زمینی حقائق کو نہیں بدلا جا سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں