سکڑتا ہوا تعلیمی سال
پاکستان کے تعلیمی نظام میں غیر متوقع چھٹیوں اور سکڑتے ہوئے تعلیمی سال کا مسئلہ ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔گزشتہ تعلیمی سال میں غیر اعلانیہ چھٹیوں کی وجہ سے صرف 127 دن تعلیمی سرگرمیاں ممکن ہو سکیں جبکہ رواں سال تعلیمی کیلنڈر مزید سکڑتا نظر آ رہا ہے۔ مختلف سیاسی‘ سماجی‘ علاقائی‘ عالمی اور موسمیاتی وجوہات کی بنا پر سکولوں میں چھٹیوں کا اثر براہِ راست بچوں کے مستقبل پر پڑتا ہے۔ جب تعلیمی سال کے دن محدود ہو جائیں تو اس کا اثر نصاب پر پڑتا ہے جسے مکمل کرنے کیلئے کم از کم 180 دن درکار ہوتے ہیں۔ اضافی چھٹیوں سے اساتذہ پر سلیبس ختم کرنے کا دباؤ بڑھتا ہے اور اکثر اساتذہ کا ٹارگٹ تدریس کے بنیادی مقصد سے ہٹ کر نصاب کی تکمیل ہو جاتا ہے۔

اس جلد بازی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طلبہ کے بنیادی تصورات بھی واضح نہیں ہو پاتے اور وہ امتحان پاس کرنے کیلئے رٹے کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بچوں کا تعلیمی حرج ان کے سیکھنے کے تسلسل اور ذہنی یکسوئی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اربابِ اختیار کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ماہرینِ تعلیم کے ساتھ مل کر ایسا تعلیمی کیلنڈر ترتیب دے جو ہنگامی چھٹیوں کی صورت میں بھی بچوں کے وقت کا ضیاع نہ ہونے دے۔ ڈیجیٹل تعلیم کو اب متبادل کے بجائے نظام تعلیم کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔