اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

برآمدات میں گراوٹ

ادارۂ شماریات کی رپورٹ کے مطابق فروری میں برآمدات کا حجم دو ارب 27 کروڑ ڈالر رہا‘ جو جنوری میں تین ارب پچاس لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 25.6 فیصد کی بڑی گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ کمی صرف ماہانہ بنیادوں پر ہی نہیں‘ سالانہ بنیادوں پر بھی برآمدات میں 8.8 فیصد کی تنزلی دیکھی گئی۔ بڑی برآمدات کے شعبے میں سب سے زیادہ گراوٹ ٹیکسٹائل سیکٹر میں تھی اور ٹیکسٹائل برآمدات 10 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں‘ جس میں ماہانہ بنیادوں پر 23.5 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ چاول اور بعض زرعی مصنوعات نے گزشتہ مہینوں میں کچھ سہارا دیا تھا لیکن یہاں بھی تسلسل برقرار نہیں رہ سکا اور چاول کی برآمدات میں 35 فیصد تک گراوٹ دیکھی گئی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مقامی مسائل کے علاوہ عالمی معاشی صورتحال اور علاقائی حالات نے بھی پاکستانی برآمدات کو متاثر کیا ہے تاہم یہ بحران پاکستان کیلئے ایک موقع بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے خلیجی ممالک کو غذائی اشیا کی برآمدات بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم ضروری ہے کہ اس حوالے سے جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جائے تاکہ مقامی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے غذائی برآمدات میں اضافہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں اعلیٰ معیار کیلئے پروسیسنگ اور پیکیجنگ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مزید برآں نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کیلئے مؤثر تجارتی سفارتکاری کی ضرورت ہے۔ اگر برآمدات میں کمی کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو یہ صورتحال معیشت کو ایک نئے بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں