سرخ لکیر
افغانستان کی جانب سے پاکستان کی شہری آبادی پر ڈرون حملہ کرنے کی کوشش سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف ہے۔ اگرچہ سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی سے یہ حملے ناکام بنا دیے گئے تاہم پاکستان کی حکومت اور اداروں کیلئے یہ باریک بینی سے غور کرنے اور ضروری اقدامات کا وقت ہے۔ افغانستان کی جانب سے حملوں کیلئے چھوٹے ڈرون کا ستعمال کوئی الگ تھلگ واقعہ معلوم نہیں ہوتا ۔یہ طالبان رجیم کی منظم سازش اور دہشت گردی کے طریقہ واردات میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے‘ جس سے وہ پاکستان میں اندر تک دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ سرحدوں پر در اندازی کی کوششوں پر پاکستان کی جانب سے منہ توڑ جواب کے بعد طالبان رجیم کا ڈرون ٹیکنالوجی کی طرف آنا ایک بڑی تبدیلی ہے۔فی زمانہ ڈرون ٹیکنالوجی عام اور سستی ہے اور مارکیٹ میں ایسے ڈرون بآسانی مل جاتے ہیں جن پر چند کلو گرام لوڈ نصب کیا جاسکتا ہے ۔ یہ ڈرون جنگی صورتحال کیلئے تو یقینا نہیں مگر تخریب کاری اور دہشت گردی کے مقاصد کیلئے استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ معمول سے ہٹ کر خطرے کا تجزیہ کیا جائے اور آنے والے وقت میں اس سے بچاؤ کی مناسب حکمت عملی وضع کی جائے۔

اس دوران جب خطہ امریکہ ‘ اسرائیل اور ایران جنگ کی وجہ سے تناؤ کا شکار ہے طالبان رجیم کی جانب سے ڈرون کے ذریعے دہشت گردی اور خوف وہراس پھیلانے کی کوشش قابلِ مذمت ہے ۔ پاکستان کی شہری آبادی کو اس قسم کے حملوں کا نشانہ بنانے کی کوشش سے واضح ہوجاتا ہے کہ طالبان رجیم کو نہ عالمی قوانین اور ضوابط کا پاس ہے اور نہ ہی وہ ایک ملک کی حکومت کی طرح عمل کر رہے ہیں۔ طالبان رجیم کا رویہ اول و آخر ایک انتہا پسند گروہ کا ہے جس کی مذمت کے علاوہ مؤثر جواب دینے کی بھی ضرورت ہے۔ حالیہ دنوں افواج پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردی کے اڈوں کو نشانہ بنانے کیلئے جاری کارروائیاں اپنے مقاصد میں کامیاب ثابت ہو رہی ہیں ۔ سینکڑوں انتہا پسندوں کی ہلاکت ان کارروائیوں کی کامیابی کی دلیل ہے۔ گزشتہ روز قندھارمیں ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخائر کو تباہ کیا گیا۔افواج پاکستان کی افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے اثرات ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات کے ایک جائزے کے مطابق رواں سال جنوری میں دہشت گردی کے 91واقعات ہوئے اور فروری میں 79جبکہ مارچ میں 36واقعات ہوئے۔
مگر طالبان رجیم کی جانب سے ڈرون کے ذریعے تخریب کاری کی کوشش اور اس حوالے سے کئے گئے دعوؤں کے بعد افغانستان میں دہشت گردی کے اڈوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔دریں اثنا چین کا کشیدگی کم کرانے کیلئے متحرک ہونا بھی خوش آئند ہے ۔اس سلسلے میں چینی وزیر خارجہ نے اگلے روز افغان وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور کہا کہ غیر یقینی عالمی ماحول میں خطے کے ممالک کو اتحاد اور تعاون کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ چینی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد براہ راست مذاکرات کی طرف بڑھیں گے اور جنگ بندی کی راہ ہموار کریں گے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت اور کشیدگی میں کمی کیلئے چین کی مثبت کوششیں قابلِ قدر ہیں مگر یہ کوششیں ایک مدت سے جاری ہیں اور سہ ملکی مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے تاہم دہشت گردی کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچنے کے پاکستانی مطالبے کو کابل نے درخورِ اعتنا نہیں جانا۔ اگر ایک بار پھر چین اس معاملے میں آیا ہے تو اس کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ افغان رجیم چین کی تجاویز اور صلاح کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔