اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بارشیں اور ناقص انتظامات

ملک کے مختلف حصوں میں جاری بارشیں شدید جانی و مالی نقصانات کا باعث بن رہی ہیں۔ خصوصاً خیبر پختونخوا میں صورتحال نہایت تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے جہاں صرف چار روز کے دوران بارش کے باعث مختلف حادثات میں 21افراد جاں بحق اور 40سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ناقص حکومتی انتظامات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گزشتہ روز پشاور میں ہونے والی موسلادھار بارش نے بھی شہری انتظامیہ کی تیاریوں کا بھانڈا پھوڑ دیا جہاں سیوریج نالے اوور فلو ہونے کے باعث بارشی پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ رواں سال کے ابتدائی بارشی سپیل نے ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ موسمی خطرات سے نمٹنے کیلئے جو پیشگی اقدامات درکار تھے وہ یا تو مکمل طور پر نظر انداز کیے گئے یا ان پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ نتیجتاً معمول کی بارشیں بھی شہری زندگی کو مفلوج کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومتیں اور ضلعی انتظامیہ مون سون سے قبل نکاسیِ آب کے نظام کی بہتری‘ برساتی نالوں اور سیوریج لائنوں کی مکمل صفائی یقینی بنائیں۔ اسی طرح آبی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات کے فوری خاتمہ بھی ناگزیر ہے۔ مزید برآں حساس نشیبی علاقوں کی نشاندہی‘ خطرے کا پیشگی وارننگ سسٹم فعال کرنا‘ ریسکیو اداروں کی استعداد کار بڑھانا اور مقامی سطح پر ڈیزاسٹر رسپانس پلان کو عملی شکل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ان اقدامات کو سنجیدگی سے نافذ نہ کیا گیا تو ہر بارش کے بعد اسی قسم کی صورتحال کا سامنا رہے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں