بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی اورسنگین ہوتا بحران
مشرقِ وسطیٰ میں چالیس روز سے جاری جنگ نے دنیا کے امن و استحکام کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔اس صورتحال سے نکلنے کی ضرورت محتاجِ بیان نہیں اور پاکستان اس کیلئے سفارتی حل تلاش کرنے میں اپنا بھر پور تعاون پیش کر چکا ہے۔ اس صورتحال میں ایران کی جانب سے تحمل اور ٹھہراؤ کا مظاہرہ درکار تھا مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور سعودی عرب کے پیٹرو کیمیکل اور صنعتی کمپلیکس کو نشانہ بنانے کے واقعات نے نہ صرف علاقائی سلامتی کو مزید خطرے میں دھکیل دیا ہے بلکہ امن و استحکام کی امیدوں کو بھی دھندلا دیا ہے۔پاکستان کی جانب سے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور اسے امن کوششوں کیلئے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ پاکستان کا یہ مؤقف اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جسے نظر انداز کرنا خطے کو بڑی تباہی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔ سعودی عرب کے انرجی انفراسٹرکچر‘ جو عالمی توانائی کی سپلائی لائن میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے‘ پر حملے کسی بھی طور پر دفاعی اقدام قرار نہیں دیے جا سکتے۔ یہ ایسی سنگین اشتعال انگیزی ہے جو ان سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہے جو گزشتہ کئی ہفتوں سے پسِ پردہ جاری ہیں۔

ان حملوں کے بعد سعودی عرب نے جس تحمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ سعودی قیادت نے اشتعال انگیزی کے بجائے ثالثی اور سفارتی حل کی حمایت کی ہے تاکہ خطے کو مزید بحران سے بچایا جا ئے۔ ایسے مرحلے پر جب امن کی کوششیں ایک نازک دور میں داخل ہو چکی ہیں اور ایرانی قیادت خود تسلیم کر رہی ہے کہ جنگ کے خاتمے کیلئے مثبت اور تعمیری کوششیں جاری ہیں‘ عرب ممالک میں انرجی اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ عناصر خطے میں استحکام نہیں دیکھنا چاہتے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ حالیہ کور کمانڈرز کانفرنس میں ان حملوں کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک اقدام قرار دیا گیا۔ سعودی عرب پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور مشترکہ دفاعی معاہدے کی رُو سے پاکستان سعودی عرب کی سالمیت اور خود مختاری کی حفاظت کا ذمہ دارہے ۔حکومتی ردعمل نے یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان اسے محض دو ملکوں کے تنازع کے طور پر نہیں دیکھ رہا بلکہ اسے پاکستان کی معاشی اور تزویراتی سلامتی پر حملہ تصور کرتا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ تو اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کر رہے ہیں مگر ایران کو اس وقت محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔
تہران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عین جنگ کے دوران دشمنوں کی فہرست میں اضافہ کرنا دانشمندی نہیں ہوتی ۔ موجودہ منظرنامے میں جہاں جنگ میں مزید شدت آتی جا رہی ہے ایران کو علاقائی ممالک کیساتھ محاذ آرائی بڑھانے کے بجائے سنبھل کر چلنے کی ضرورت ہے۔ اشتعال میں آ کر کیے گئے فیصلے الٹا نقصان پہنچاتے ہیں اور طاقت کا بے جا استعمال مزیدمسائل کو جنم دیتا ہے‘ جبکہ پائیدار اور پُرامن تصفیہ محض مذاکرات کی میز پر ممکن ہے۔ گزشتہ روز امریکی صدر کی جانب سے ایرانی تہذیب مٹانے کی دھمکیوں اور ایران کی جانب سے جنگ بندی کیلئے جاری مذاکرات ختم کرنے اور بات چیت میں مزید حصہ نہ لینے کے اعلانات نے اس تنازع کو عالمی امن کیلئے مزید خطرناک بنا دیا ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ متحارب فریقین کے پاس اس محاذ آرائی کے خاتمے کا کوئی پلان نظر نہیں آتا۔ پوری دنیا کی معیشت اور شرقِ اوسط کا خطہ پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے‘ اب مزید کسی مہم جوئی کی گنجائش نہیں۔
جب تک فریقین ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے باہمی احترام کی بنیاد پر مکالمہ نہیں کریں گے امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ توانائی‘ صنعتی اور سول انفراسٹرکچر پر حملے بلا جواز ہیں‘ یہ سلسلہ فوری اور مکمل طور پر بند ہونا چاہیے تاکہ امن عمل ہموار انداز میں آگے بڑھ سکے۔