پاکستان کی سفارتی جیت
مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکنے والی جنگ کی آگ کو پاکستان نے جس طرح ثالثی سے ٹھنڈا کیا ہے‘ وہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے مقام شکر ہے۔ ایران اور امریکہ میں دو ہفتوں کیلئے جنگ بندی اور پائیدار امن کیلئے جمعہ کو اسلام آباد میں فریقین کے مذاکرات پر اتفاق ایک ایسی سفارتی پیشرفت ہے جس نے پاکستان کو عالمی بساط پر ایک اہم سیاسی کھلاڑی کے طور پر معتبر مقام دلایاہے۔ اس کامیابی کے پیچھے پاکستان کی خاموش سفارتکاری اور بیک چینل ڈپلومیسی کے وہ تمام حربے کارفرما تھے جو بین الاقوامی تعلقات میں کسی ریاست کو معتبر بناتے ہیں۔ جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کاوشوں کا آغاز اگرچہ جنگ کے آغاز کیساتھ ہی ہو گیا تھا اور جیسے جیسے جنگ میں شدت آتی گئی ‘ سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہوتی گئیں۔ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہنگامی دورے‘ دوست ممالک سے ٹیلیفونک رابطے‘ اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس اور پاک چین پانچ نکاتی امن فارمولا‘یہ سب پاکستان کی سفارتی کوششوں کے تسلسل کی وہ کڑیاں ہیں جو کشیدگی کے اتار چڑھائو کے باوجود جاری رہیں اور آخر کار ایسے موقع پر‘ جب تہران اور واشنگٹن کے مابین کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور خدشہ تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی آگ بڑے عالمی تنازع میں بدل جائے گی‘ پاکستان کی بارُسوخ سفارتی کوششوں نے امن کی وہ کلید تلاش کر لی جس کی دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت تھی۔

اس تمام عرصے میں نہ صرف علاقائی ممالک کو اس جنگ میں کودنے سے روکا گیا بلکہ انہیں اس بات پر بھی قائل کیا گیا کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں بلکہ معاشی تباہی کا آغاز ثابت ہو گی۔ اس پورے عمل میں پاکستان کی سب سے بڑی قوت اس کا متوازن اور غیر جانبدارانہ کردار تھا۔ بین الاقوامی تعلقات میں جب کوئی ملک کسی ایک بلاک کا حصہ بن جاتا ہے تو اسکی ثالثی کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے لیکن پاکستان نے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو اس طرح متوازن رکھا کہ متحارب فریقین نے اسلام آباد کی سہولت کاری کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ امن مذاکرات کو جاری رکھنے کیلئے فوری جنگ بندی پر بھی متفق ہو گئے۔ جی سی سی‘ یورپی یونین‘ ترکیہ اور دیگر ممالک کی جانب سے پاکستان کے اس امن پسند کردار کی تحسین پاکستان کیلئے ایک نئے عالمی کردار کا بھی پیام ہے۔ تاہم ضروری ہے کہ مربوط قومی حکمت عملی کے ذریعے اس غیر معمولی کامیابی کو اندرونِ ملک سیاسی استحکام اور ایک نئے معاشی دور کا بھی پیش خیمہ بنایا جائے۔ حالیہ کامیابی سے پیدا ہونیوالے مثبت تاثر کو سیاسی پولرائزیشن کم کرنے اور معاشی پالیسیوں میں تسلسل کیلئے بھی بروئے کار لانا چاہیے۔ گزشتہ برس مئی میں پاکستان نے معرکہ حق کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو منوایا تھا اور اب امنِ عالم کی خاطر اپنی سفارتی صلاحیتوں کو دنیا سے منوا کر یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان عسکری‘ سفارتی اور سیاسی توازن کے ایسے امتزاج کا حامل ہے جو پیچیدہ عالمی مسائل کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ کامیابی پاکستان کی سٹرٹیجک خود مختاری کا بھی اعلان ہے کہ پاکستان قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی امن کی خاطر بڑے سے بڑا کردار ادا کرنے کی پوری اہلیت رکھتا ہے۔ یہ اسلام آباد کی نئی سٹرٹیجک ڈاکٹرائن معلوم ہوتی ہے جس میں طاقت کو امن کے حصول کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اسلام آباد کی یہ امن کوششیں عالمی سطح پر ایک ایسی مثال قائم کر رہی ہیں جو آئندہ کئی دہائیوں تک سفارتکاری کے طالب علموں کیلئے مشعلِ راہ رہے گی۔ملکی ساکھ میں بہتری سے یقینا بین الاقوامی برادری اور عالمی اداروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھے گا تاہم عالمی سٹیج پر ایک ذمہ دار ریاست کا کردار اسی وقت مؤثر ہو سکتا ہے جب ملک کی معاشی بنیادیں مضبوط اور سیاسی سمت واضح ہو‘ اور اس حوالے سے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔