اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ناقص حفاظتی اقدامات

اگلے روز کراچی میں گٹر کی صفائی کے دوران تین مزدور زہریلی گیس کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں‘ سینیٹری ورکرز کے حقوق کیلئے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق ملک میں ہر سال 100کے قریب سینیٹری ورکرز مین ہول کے حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں‘ جب اس مقصد کیلئے دنیا بھر میں مشینیں استعمال ہوتی ہیں‘ ہمارے ہاں اب بھی گٹروں کی دستی صفائی کا نظام رائج ہے‘ اور اس میں بھی حفاظتی اقدامات کو بروئے کار نہیں لایا جاتا۔

محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی جانب سے گٹروں کی صفائی کرنیوالے ورکرز کیلئے گیس ماسک‘ آکسیجن سلنڈر‘ وینٹی لیشن سسٹم اور حفاظتی سوٹ سمیت 17حفاظتی آلات کو لازمی قرار دیا گیا ہے لیکن عملی طور پر ان ورکرز کو حفاظتی سامان کے طور پر صرف ایک رسی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ صورتحال فوری اور سخت اقدامات کی متقاضی ہے۔ انسانی جان کی حفاظت سب سے مقدم ہے‘ اسلئے گٹروں کی دستی صفائی پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے اور اسے جدید سکشن‘ جیٹنگ اور روبوٹک مشینوں سے تبدیل کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی مجبوری کے تحت لائن کی دستی صفائی ضروری ہو تو گٹر مینوں کو مکمل حفاظتی کِٹ فراہم کی جانی چاہیے۔ حفاظتی قواعد پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ حکام کیخلاف سخت کارروائی بھی ناگزیر ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں