اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ایران امریکہ معاملات کی حساسیت

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات ایک ایسے نازک موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں جہاں ہر قدم نہایت سوچ سمجھ کر اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جمعہ کے روز ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنا ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا تھا جس کے مثبت اثرات تیل کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں فوری سامنے آنا شروع ہو گئے۔ تاہم ایران کی جانب سے آبنائے کی دوبارہ بندش نے دنیا کو پہلے جیسے اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ امریکہ نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور ایران کی بحری ناکہ بندی کو برقرار رکھا ہے ۔ایران کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ جب تک امریکہ جہازوں کی آمدورفت کو پوری آزادی کیساتھ بحال نہیں کرتا اس وقت تک آبنائے ہرمز کی نگرانی سخت رہے گی۔یہ صورتحال ایران اور امریکہ کے مابین اعتماد کے بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ دونوں فریق مذاکرات کی پیش رفت کیلئے امید ظاہر کرتے ہیں مگر ایک دوسرے پر پوری طرح اعتماد کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتے یا مذاکراتی عمل میں دوسرے فریق کے مقابلے میں مضبوط پوزیشن کے تاثر کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

مذاکراتی عمل میں ایسا ہونا حیران کن نہیں مگر کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ایسی صورتحال مذاکرات کے عمل کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ اس کیلئے فریقین کو تحمل‘ بردباری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور ایسے بیانات اور لب و لہجے سے گریز کی ضرورت ہو گی جو امن کے عمل کو خطرے میں ڈالنے کا سبب بن سکتا ہو۔کسی بھی معاہدے کی کامیابی کا دارومدار صرف دستاویزی نکات پر نہیں بلکہ اس اعتماد پر ہوتا ہے جو فریقین ایک دوسرے پر کرتے ہیں۔ اگر ایک فریق کو یہ محسوس ہو کہ دوسرا اپنی پالیسیوں یا مطالبات میں بار بار تبدیلی لا رہا ہے تو اس سے نہ صرف بداعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ مذاکرات کا عمل بھی تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ مطالبہ اسی پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ امریکہ اپنے مؤقف میں تسلسل برقرار رکھے اور بار بار ردوبدل سے گریز کرے۔ یہ مطالبہ بظاہر سادہ نظر آتا ہے مگر اس کی اہمیت انتہائی بنیادی ہے کیونکہ مستقل مزاجی ہی اعتماد سازی کی پہلی شرط ہوتی ہے۔ایران امریکہ مذاکرات اور جنگ بندی کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششیں قابلِ ذکر ہیں جن کی بدولت فریقین کو عارضی جنگ بندی اور مذاکرات کے عمل میں مصروف کرنا ممکن ہوا ہے۔

تاہم یہ احسن کوششیں اسی صورت نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہیں جب ایران اور امریکہ سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ مذاکرات کو مستقل حل کے طور پر دیکھیں اور سوشل میڈیا کی بیان بازی کے بجائے سنجیدہ سفارتکاری کی طرف توجہ کریں۔ ایران اور امریکہ کو پائیدار امن کے قیام کیلئے اپنے رویوں میں لچک‘ سنجیدگی اور مستقل مزاجی پیدا کرنا ہوگی۔ یہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی پیچیدہ تنازع کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس سنجیدگی کیساتھ اگر موجودہ پیشرفت کو درست سمت میں آگے بڑھایا گیا تو امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والا مذاکراتی دور نہ صرف ان دونوں ملکوں بلکہ پورے خطے کیلئے استحکام اور خوشحالی کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ہمیں یہ بھی مان کر چلنا ہو گا کہ ان دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج گہری رہی ہے اور اسی وجہ سے ہر پیشرفت کو پائیدار شکل دینا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے؛ چنانچہ بات چیت کا عمل طول کھینچتا ہے اور اس دوران کئی نشیب و فراز آتے ہیں۔ معاملات کی حساسیت کی نوعیت بھی کچھ اس طرح کی ہے کہ ان کو طے کرنا وقت طلب ہے۔2015 ء میں ہونے والے عالمی جوہری معاہدے کی مثال سامنے ہے کہ اس کو 20 ماہ کی طویل گفت و شنید کے بعد طے کیا جاسکا تھا۔

اس تناظر میں مذاکرات کے موجودہ عمل کی ممکنہ رفتار کا اندازہ لگانا آسان ہونا چاہیے۔ تاہم ایران اور امریکہ کو اس حقیقت کا احساس ہونا چاہیے کہ دونوں میں امن اور ہم آہنگی علاقائی اور عالمی امن اور ترقی کیلئے کس قدر اہم ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں