اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ڈیزل سستا، کرایے برقرار

آٹھ روز کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 167روپے فی لٹر کی نمایاں کمی ملک میں مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کی سمت ایک مثبت اشارہ ثابت ہو سکتی تھی۔ تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس کمی کے باوجود گڈز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی‘ اور ان کے نرخ بدستور اسی سطح پر برقرار ہیں جس سطح پر وہ اس وقت پہنچ گئے تھے جب ڈیزل کی قیمت 520 روپے فی لٹر تھی۔ ٹرانسپورٹ لاگت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ جب سامان کی ترسیل مہنگی ہوتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

ہمارے ہاں یہ روش جڑ پکڑ چکی ہے کہ جیسے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھتی ہے‘ ٹرانسپورٹرز کرایوں میں فوری اضافہ کر دیتے ہیں‘ لیکن اس کے برعکس جب تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کمی کا فائدہ عام صارف تک منتقل نہیں کیا جاتا۔اس لیے حکومت کو محض تیل کی قیمتوں میں کمی یا اضافے کے اعلان تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ایک واضح پالیسی فریم ورک کے تحت یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر ٹرانسپورٹ کرایوں پر منصفانہ اور شفاف انداز میں منتقل ہو۔ اس مقصد کیلئے  ٹرانسپورٹ سیکٹر کی مؤثر نگرانی اور قیمتوں کے تعین کا مربوط نظام ناگزیر ہے۔ اگر یہ عدم توازن برقرار رہا تو پٹرولیم قیمتوں میں کمی کے باوجود مہنگائی کا طوفان کم نہیں ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں