نئے پولیو کیس
خیبرپختونخوا کے اضلاع بنوں اور شمالی وزیرستان سے پولیو کا ایک‘ ایک کیس رپورٹ ہونے کے بعد رواں برس ملک بھر سے رپورٹ شدہ کیسوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔ نئے پولیو کیسوں کے بعد نہ صرف پولیو فری پاکستان کی منزل ایک مرتبہ پھر نظروں سے اوجھل ہو گئی ہے بلکہ یہ کیس پولیو کے حوالے سے ہائی ویلیو ٹارگٹڈ ایریاز کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ گزشتہ برس بھی بنوں سے تین جبکہ شمالی وزیرستان سے پانچ پولیو کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ بعض رپورٹس میں ان دونوں اضلاع میں نئے پولیو کیسز کی وجہ ویکسی نیشن کی کمی ہے جس کا سبب ان اضلاع میں پولیو ٹیموں پر مسلسل ہونے والے حملے ہیں۔ اپریل میں ہونے والی ملک گیر پولیو مہم کے دوران بھی بنوں میں تین پولیو اہلکاروں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

یہ صورتحال متعلقہ حکام کیلئے باعث تشویش ہونی چاہیے کہ پوری دنیا میں معدوم ہو جانے والا مرض ہمارے ہاں نہ صرف اب بھی موجود ہے بلکہ ہر سال اسکے نئے کیس بھی سامنے آتے ہیں۔ پولیو کی وجہ سے پاکستان کو حج سمیت مختلف مواقع پر انسدادِ پولیو کی دوا اور پولیو سے پاک ہونے کے سرٹیفکیٹ کی اضافی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ اس مرض کے خاتمے کے لیے آئندہ مہمات میں ہائی ویلیو ٹارگٹڈ ایریاز میں ہر صورت سو فیصد بچوں کی ویکسی نیشن یقینی بنائیں۔