موسمیاتی تبدیلیاں اور زراعت
انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق پنجاب کے 80فیصد سے زائد کسان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔ صوبے میں بارشوں کا غیرمتوازن نظام اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت فصلوں کے قدرتی سائیکل کو متاثر کر رہا ہے جس سے زرعی معیشت کی بنیادیں ہل گئی ہیں۔ اپریل کی غیرمتوقع بارشوں سے گندم کی کٹائی متاثر ہوئی ہے تو جولائی اور اگست کی شدید بارشیں کپاس اور چاول کیلئے خطرہ بن جاتی ہیں۔ گزشتہ برس سیلاب سے پنجاب میں 24 لاکھ ایکڑ پر فصلیں تباہ ہوئی تھیں۔ اس تباہ کن صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے سب سے پہلے تو زرعی پالیسی کو موسمیاتی حقائق کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔ حکومت کو فوری طور پر کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچرکو مرکزی حکمت عملی کے طور پر اپنانا چاہیے جس میں مختصر دورانیے کی فصلوں‘ گرمی اور پانی کی کمی برداشت کرنے والی اقسام کو فروغ دینا شامل ہے۔

دوسرا کسانوں کو ڈیجیٹل ایگریکلچر پلیٹ فارمز کے ذریعے موسم کی بروقت پیشگوئی‘ فصلوں کی کاشت کے اوقات‘ بیماریوں اور کیڑوں کے حملوں سے متعلق فوری رہنمائی فراہم کی جائے۔ تیسرا‘ زرعی انشورنس اور مالی تحفظ کا نظام ناگزیر ہے۔ موسمیاتی آفات کے باعث ہونے والے نقصانات کا بوجھ اکیلا کسان برداشت نہیں کر سکتا‘ حکومت فصل بیمہ سکیموں کو عام کرے۔ اگر فوری اور سائنسی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے تو پنجاب کی زرعی بنیادیں کمزور پڑ سکتی ہیں جس سے ملک کا غذائی تحفظ شدید خطرے میں آ سکتا ہے۔