مذاکرات یا نیا بحران؟
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عالمی امن کیلئے بڑا خطرہ اور عالمی معیشت کیلئے لوہے کا چنا بن چکی ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان کی کاوشوں سے دونوں ملکوں میں جنگ بندی اور مذاکرات سے صورتحال میں بہتری اور امن کے قیام کی امید پیدا ہوئی تاہم مذاکرات کے دوسرے دور میں تاخیر اور اس حوالے سے درپیش رکاوٹیں تشویش کا باعث ہیں۔ اگرچہ فریقین میں بالواسطہ رابطے قائم ہیں اور پائیدار امن کی تجاویز کا تبادلہ ہورہا ہے مگر بات اس سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کے ایک حالیہ بیان کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے ایک نیا مذاکراتی منصوبہ امریکہ تک پہنچا یا ہے اور مذاکرات میں پیش رفت بقول اُن کے امریکی رویے پر منحصر ہے۔ ایران کی جانب سے مذاکراتی تجاویز بظاہر اس بات کی علامت ہیں کہ ایران سفارتی حل کا خواہاں ہے مگر دوسری جانب سے کوئی گرم جوشی نظر نہیں آرہی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے تجاویز موصول ہونے کی تصدیق کی ہے اور ان کے سوشل میڈیا بیان کے مطابق ان تجاویز پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ لیکن اسی بیان کے ساتھ انہوں نے یہ کہہ کر کہ ’’میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ یہ قابلِ قبول ہوگا کیونکہ انہوں نے انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ پچھلے 47برسوں میں کیا ہے اس کی قیمت ابھی تک ادا نہیں کی ہے‘‘ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ایک طرف مذاکرات کی باتیں اور دوسری جانب کشیدگی کے اشارے‘ امریکہ ایران مذاکرات کی اس صورتحال نے عالمی برادری کو اندیشوں سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایران کا مؤقف واضح ہے کہ اگر امریکہ سنجیدہ ہے تو اسے اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ یہ مطالبہ غیرمنطقی نہیں کیونکہ یکطرفہ دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ مگر امریکہ اور ایران کے درمیان تصادم بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف ان دونوں ملکوں تک محدود نہیں رہیں گے‘ جیسا کہ پچھلے دو ماہ کے حالات میں دیکھا گیا ہے کہ اس تنازعے کے اثرات نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لیا ہے اور عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔ خلیجی خطہ پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے‘ کسی نئی جنگ کی صورت میں وہاں کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ پراکسی جنگوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور شدت پسند گروہوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے‘ جو عالمی سلامتی کیلئے بھی بڑا خطرہ ہو گا۔ معاشی لحاظ سے بھی اس کشیدگی کے دور رس اثرات ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ توانائی کی پیداوار کا مرکز اور خلیج فارس عالمی توانائی کی اہم گزر گاہ ہے۔ اس خطے میں تصادم کی صورت میں سب سے پہلے توانائی پر اثر پڑتا ہے‘ لیکن یہ اثرات صرف توانائی تک محدود نہیں عالمی سطح پر خوراک کی پیداوار پر بھی اس بحران کے دور رس اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے عالمی معیشت پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے اور مہنگائی میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے جس سے لوگوں کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہو رہی ہے‘ ایسے میں خوراک کی پیداوار اور سپلائی کے خطرات عالمی سطح پر ایک اور طرح کے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ کشیدگی کے اس ماحول میں امید کی ایک ہی کرن ہے اور وہ ہے مذاکرات کا عمل۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز اس بات کا ثبوت ہیں کہ سفارتی راستہ اب بھی کھلا ہے۔ مگر یہ آپشن لامحدود مدت کیلئے دستیاب نہیں ہو سکتا۔ اگر امریکہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور دھونس کے بجائے بات چیت کو ترجیح دے تو پائیدار حل تک پہنچنا ناممکن نظر نہیں آتا۔ دنیا اس وقت کسی نئے بڑے تنازع کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ امریکہ اور ایران کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہو گا جو صورتحال کو مزید خراب کریں۔ امن کا راستہ مشکل ضرور ہے لیکن یہی واحد راستہ ہے جو خطے اور دنیا کو بڑے بحران سے بچا سکتا ہے۔