اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بجلی پر سبسڈی ختم؟

حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کو تحریری یقین دہانی کراتے ہوئے 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ سبسڈی اب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ صارفین تک ہی محدود ہو گی۔ اس وقت ملک میں بجلی صارفین کی مختلف کیٹیگریز موجود ہیں جنہیں ماہانہ کھپت کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا ہے۔ 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین‘ نیپرا کے مطابق جن کی تعداد دو کروڑ سے زائد ہے‘ اور یہ کل صارفین کا تقریباً 59 فیصد بنتے ہیں‘ کو نسبتاً سستی بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ لیکن مجوزہ پالیسی تبدیلی سے آبادی کا یہ بڑا حصہ براہِ راست متاثر ہو گا۔ بالخصوص متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر زیادہ بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔

ملک کے توانائی بحران کے اصل اسباب درآمدی تیل اور گیس پر انحصار‘ بلند کپیسٹی چارجز‘ گردشی قرضوں‘ لائن لاسز اور بجلی چوری جیسے عوامل ہیں۔ جب تک ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا صرف سبسڈی کا بوجھ کم کرنے سے بحران کا حل ممکن نہیں۔ ریاست کی ذمہ داری صرف مالی اہداف پورے کرنا نہیں بلکہ سماجی انصاف کو بھی یقینی بنانا ہے۔ ضروری ہے کہ کسی بھی فیصلے سے پہلے اس کے عوامی اثرات کا مکمل ادراک کیا جائے۔ بصورت دیگر توانائی اصلاحات عوامی ریلیف کے بجائے ایک اور معاشی دباؤ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں