معرکہ حق، قومی وقار کا استعارہ
معرکۂ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے اہم پریس کانفرنس میں عسکری کامیابیوں‘ دفاعی تیاری اور درپیش چیلنجز سے متعلق جامع بریفنگ دی۔ ترجمان پاک فوج نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی حقیقت کو ایک دفعہ پھر چاک کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا بھارت تاحال کوئی جواب نہیں دے سکا۔ یہ خاموشی اس بات کی غماز ہے کہ بھارت حقائق کا سامنا کرنے سے کترا رہا اور عالمی برادری کے سامنے اپنی پشیمانی چھپانے کیلئے حیلے بہانوں سے کام لے رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واشگاف الفاظ میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کل بھی اپنی سرحدوں کی حفاظت کیلئے تیار تھا اور آج بھی مکمل طور پر مستعد ہے جبکہ بھارت نے معرکہ حق کے دوران پاکستان کی کُل دفاعی صلاحیت کا صرف دس فیصد حصہ دیکھا ہے۔ ایک تنبیہ بھی ہے کہ اگر دشمن نے دوبارہ کسی مہم جوئی کی کوشش کی تو اسے پہلے سے بھی زیادہ سخت اور دندان شکن جواب ملے گا۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ ہو یا بیرونی جارحیت سے دفاع‘ افواجِ پاکستان نے دفاعِ وطن کا تقاضا ہمیشہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر نبھایا ہے‘ تاہم معرکہ حق نے محض ملکی دفاع کو ہی یقینی نہیں بنایا بلکہ عسکری میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کی جس نے جدید جنگ سے متعلق رائج نظریات کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ کم وقت اور محدود وسائل میں جس طرح دشمن کے جدید ترین جنگی اثاثوں کو خاک میں ملایا گیا‘ اس نے دنیا بھر کے دفاعی ماہرین کو ششدر کر دیا۔

اب یہ بات مسلّم ہو چکی کہ جنگیں صرف جدید اسلحے سے نہیں بلکہ بلند حوصلوں‘ وسائل کے مربوط اور درست استعمال اور بہتر حکمت عملی سے جیتی جاتی ہیں۔ معرکہ حق نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کی فضائی وزمینی حدود کی پامالی کا خواب دیکھنے والوں کو ہمیشہ شکست اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کامیابی کا ایک اہم پہلو پاکستان کی پولیٹیکو ملٹری ڈپلومیسی ہے جس کی آج پوری دنیا معترف نظر آتی ہے۔ معرکہ حق حقیقی معنوں میں پاکستان کیلئے ایک نیا آغاز ثابت ہواجہاں فوجی طاقت اور سفارتی بصیرت نے مل کر ملک کا مقدمہ عالمی سطح پر مضبوطی سے لڑا۔عالمی فورمز پر پاکستان کے مؤقف کو جس طرح پذیرائی ملی‘ وہ اسی مربوط سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔ آج دنیا پاکستان کو خطے میں امن کے ضامن کے طور پر دیکھ رہی ہے اور بھارت کے جارحانہ عزائم دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکے۔ تاہم دفاعِ وطن محض سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک ہمہ جہت عمل ہے جس میں حکومت اور عوام کو بھی اپنے حصے کی ذمہ داری نبھانا پڑتی ہے۔ دفاعی استحکام کیلئے داخلی وحدت اور ہم آہنگی کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور یہی وہ سبق ہے جو معرکہ حق ہمیں سکھاتا ہے۔ الحمدللہ! عسکری اعتبار سے آج ملکی سرحدیں پوری طرح محفوظ ہیں‘ البتہ ملک کو اندرونی طور پر مستحکم کرنے کیلئے معاشی اور سماجی انصاف کی فراہمی ناگزیر ہے۔ سماجی انصاف کا عام ہونا اور قانون کی بالادستی وہ بنیادی ستون ہیں جو ریاست کو اندر سے ناقابلِ تسخیر بناتے ہیں۔ جب شہریوں کو انکے حقوق ملیں گے اور معاشی مواقع یکساں میسر ہوں گے تو انتہا پسندی اور داخلی انتشار جیسے چیلنجز خود بخود دم توڑ دیں گے۔
لہٰذا معرکہ حق کی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کیلئے ہمیں اپنی معیشت کو سہارا دینا ہوگا اور معاشرے میں عدل وانصاف کے نظام کو رائج کرنا ہوگا تاکہ ایک عام آدمی بھی ریاست کے تحفظ کا احساس کر سکے۔ معرکہ حق محض ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ پاکستان کی خودداری اور قومی وقار کا استعارہ ہے۔ آج جب ہم اس معرکے کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں تو ہمیں اس عہد کی تجدید کرنی ہے کہ دفاعِ وطن کیلئے پوری قوم یکجا رہے گی اور معاشی و سماجی استحکام کے ذریعے ملک کو ایک ایسی عظیم ریاست بنائیں گے جس کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہ کر سکے۔