اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ادویات کی مہنگائی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے حالیہ اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران مختلف ادویات کی قیمتوں میں 100فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ 2024ء میں نگران حکومت نے ادویات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق پالیسی تبدیل کرتے ہوئے ڈی ریگولیشن کا فیصلہ کیا اور قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار دوا ساز کمپنیوں کے سپرد کر دیا تھا۔ اس اقدام کے حق میں یہ جواز دیا گیا تھا کہ اس سے مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی‘ غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی اور دواسازی کے شعبے کی برآمدات میں اضافہ ہو گا مگر عملی طور پر نتائج اس کے برعکس نکلے ہیں۔

قیمتوں میں کمی یا استحکام کے بجائے بیشتر دوا ساز کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ کر دیا جس سے عام آدمی کیلئے علاج معالجہ مزید دشوار ہو گیا۔ ملک میں پہلے ہی ہسپتالوں اور صحت کی بنیادی سہولتوں کی صورتحال تسلی بخش نہیں چنانچہ شہریوں کی بڑی تعداد نجی شعبے سے رجوع کرنے پر مجبور ہے۔ ایسے ماحول میں اگر ادویات بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو اس کیلئے بیماری صرف جسمانی اذیت نہیں بلکہ معاشی تباہی میں بھی بدل جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت دواؤں کی قیمتوں میں ہونے والے اس غیر معمولی اضافے کا فوری نوٹس لے اور متعلقہ کمپنیوں سے جواب طلب کرے جنہوں نے مختصر مدت میں قیمتیں کئی گنا بڑھا دیں۔ حکومت کو ڈی ریگولیشن پالیسی پر بھی نظرثانی کرنا ہو گی تاکہ ادویات عام آدمی کی پہنچ سے باہر نہ ہوں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں