اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ٹرینوں کی بندش

پاکستان ریلویز نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آٹھ مسافر ٹرینیں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریلوے کو متوسط اور نچلے طبقے کیلئے ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کا سب سے آسان اور قابلِ عمل ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور اس فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر یہی طبقات ہوں گے۔ چند روز قبل ہی وزارتِ ریلوے نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان ریلوے نے گزشتہ مالی سال میں دو ارب 41کروڑ روپے منافع کمایا اور مجموعی آمدن 93ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس اعلان کے بعد امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید پاکستان ریلوے ایک بار پھر اپنے پائوں پر کھڑا ہو رہا ہے مگر ٹرینوں کی بندش کے حالیہ فیصلے نے اس خوش فہمی کو بڑی حد تک زائل کر دیا ہے۔

حقیقت یہی ہے کہ ریلویز آج بھی شدید مالی‘ انتظامی اور تکنیکی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ یہ ادارہ سالہا سال سے مسلسل عدم توجہی‘ ناقص منصوبہ بندی اور فرسودہ نظام کا شکار رہا ہے۔ اس میں نہ تو بروقت جدید اور تیز رفتار ٹرینوں کا اضافہ کیا گیا اور نہ ہی موجودہ ٹرینوں میں معیاری سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جا سکی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ریلوے میں جامع اصلاحات کی جائیں۔ مال بردار ٹرینوں کے نظام کو مزید فعال بنا کر اور جدید ٹکٹنگ سسٹم‘ ٹریکس کی اَپ گریڈیشن اور نئی کوچز کی شمولیت سے ادارے کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں