زرعی اجناس کا بڑھتا درآمدی بل
وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی دس مہینوں کے دوران غذائی اجناس کی درآمدات سالانہ بنیادوں پر تقریباً 14فیصد اضافے کے بعد سات ارب 84کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جبکہ اسی مدت میں غذائی برآمدات 32 فیصد سے زائد کمی کے ساتھ چار ارب 19کروڑ ڈالر تک رہیں۔ ایک زرعی ملک کیلئے یہ صورتحال نہ صرف لمحۂ فکریہ بلکہ پالیسی سازی کے مجموعی ڈھانچے پر بھی سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ غذائی برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ مہنگے زرعی مداخل کے باعث پیداوار میں ہونے والی کمی ہے۔ کھاد‘ بیج‘ زرعی ادویات‘ ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے کسان کی کمر توڑ دی ہے۔ ایسے حالات میں زرعی شعبے سے بہتر پیداوار کی توقع عبث ہے۔

رہی سہی کسر موسمیاتی تبدیلیوں نے پوری کر دی ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں شامل ہے مگر زرعی شعبے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کیلئے سنجیدہ منصوبہ بندی دکھائی نہیں دیتی۔ غذائی برآمدات میں کمی متزلزل اور روز بدلتی زرعی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ حکومت کسانوں کو سستے اور معیاری زرعی مداخل اور ارزاں نرخوں پر بجلی کی فراہمی یقینی بنائے۔ اگر زرعی تحقیق‘ جدید آبپاشی نظام‘ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ بیجوں اور زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے تو نہ صرف زرعی شعبے کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے بلکہ ملک غذائی خود کفالت کی منزل حاصل کرنے کے بعد زرعی برآمدات میں اضافے کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔