دفاعِ وطن اور شہدا کی قربانیاں
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ملک بھر میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول تک دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قومی قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔ جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں پاک فوج کے افسران اور جوانوں کو عسکری اعزازات دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے دہشت گردی کے خلاف دفاعی اداروں کی مسلسل کوششوں کی تعریف کی اور شہدا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا امن اور سلامتی شہیدوں کی عظیم قربانیوں اور فرض سے بے لوث وابستگی کا نتیجہ ہے۔ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے پاکستان ایک ایسی جنگ کی زد میں ہے جس میں دھرتی کے ہزاروں بچوں کو اپنی جان قربان کر کے وطن کے دفاع کا تقاضا نبھانا پڑا۔ یہ جنگ ملکی بقا اور قومی سلامتی کا ایسا معرکہ ہے جس میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے فرنٹ لائن پر سینہ تان کر کھڑے ہیں۔

کسی بھی قوم کا سب سے بڑا اثاثہ اس کے وہ جوان ہی ہوتے ہیں جو اپنے آج کو قوم کے کل پر قربان کر دیتے ہیں۔ فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں اس حقیقت کو احسن انداز میں اجاگر کیا کہ شہدا اور غازی اس قوم کا دائمی اور لازوال فخر ہیں‘ انکی عزت‘ تکریم اور ان کے خاندانوں کی قربانی ہر پاکستانی کیلئے ایک مقدس امانت کا درجہ رکھتی ہے۔ ہمارے غازیوں نے عزم وہمت کی جو داستانیں رقم کی ہیں‘ وہ بھی آنیوالی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ ہیں۔ اگر ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ کی ہولناکی اور پاکستان کی قربانیوں کا جائزہ لیں تو اعداد وشمار لرزا دینے والے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دس ہزار سے زائد فوجی افسران اور جوانوں نے مادرِ وطن پر اپنی جانیں نچھاور کی ہیں اور اس طرح سکیورٹی فورسز نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور بے پناہ لگن کے ذریعے ملکی سرحدوں اور اندرونی امن کا تحفظ ممکن بنایا۔ اگر ہم گزشتہ پانچ برس کا جائزہ لیں تو سکیورٹی امور سے متعلق ایک ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2021ء میں 226 سکیورٹی فورسز اہلکار شہید ہوئے‘ 2022ء میں 379‘ 2023ء میں 532‘ 2024ء میں 754 اور 2025ء میں 1229۔ انہی سالوں میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہریوں کی تعداد بالترتیب 215‘ 229‘ 398‘ 582 اور 655 تھی۔ یعنی سکیورٹی فورسز کے جوان عام شہریوں کی نسبت کہیں زیادہ قربانیاں پیش کر رہے ہیں اور ان قربانیوں کا ثمر ہمیں محفوظ پاکستان کی صورت میں نظر بھی آ رہا ہے۔
آج کا پاکستان اسکی نسبت کہیں زیادہ محفوظ اور مامون ہے‘ جتنا کہ ایک ڈیڑھ دہائی قبل تک۔ یہ سب سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ قابلیت‘ عملی حکمت عملی اور بے لوث قربانیوں ہی کا نتیجہ ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کے علاقائی اور عالمی بدخواہ اپنے تمام تر مادی‘ مالی و عسکری وسائل کیساتھ ریاست کو کمزور کرنے کے درپے ہیں اور اپنی پراکسیز کے ذریعے ملک کی بنیادوں کو کمزور بنانا چاہتے ہیں مگر دشمنوں کی تمام تر سازشوں کے باوجود‘ سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز نے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ہے اور ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔ مادرِ وطن کے یہ جانباز حقیقی معنوں میں ملک و قوم کیلئے نویدِ حیات ثابت ہوئے ہیں۔ شہدا کا لہو قوم کو یہ پیغام دیتا ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں‘ قوتِ اخوتِ عوام اور یکجہتی ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ شہدا کی قربانیوں کا قرض نہیں اتارا جا سکتا مگر ان نظریات اور مقاصد کیساتھ‘ جن کیلئے شہدا نے اپنی جانیں قربان کیں‘ ہم اپنی وفاداری اور وابستگی ظاہر کر کے انہیں خراجِ تحسین ضرور پیش کر سکتے ہیں۔ دفاعِ وطن کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں‘ انتہا پسندانہ سوچ کی حوصلہ شکنی کریں اور دفاعی اداروں کیخلاف منفی پروپیگنڈا اور جعلی خبروں کی بیخ کنی کریں۔ بیرونی اور سرحدی محاذ پر ہمارے جوان مستعد کھڑے ہیں‘ اندرونی محاذ پر دفاعِ وطن کی ذمہ داری ہمیں نبھانا ہے۔