مہنگائی کے وار
وفاقی ادارۂ شماریات کے تازہ اعدادوشمار نے ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ ملک میں مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا‘ بلکہ مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران 27 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہفتہ وار مہنگائی میں 1.40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ مجموعی شرح 13 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ آٹا‘ ٹماٹر‘ پیاز‘ بجلی‘ گیس اور دیگر بنیادی ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پہلے ہی عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کر رہی تھیں کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا جو منافع خور عناصر کومن مانی قیمتیں وصول کرنے کا جواز فراہم کرے گا۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ انسدادِ گرانی کے ذمہ دار ادارے اس صورتحال میں مؤثر کردار ادا کرنے کے بجائے اکثر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں‘ جس کا سارا بوجھ عام شہری کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں کم آمدنی والے طبقے کیلئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی کڑا امتحان بنتا جا رہا ہے جبکہ متوسط طبقہ بھی مسلسل معاشی دباؤ کی زد میں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مہنگائی کے تدارک کیلئے مارکیٹ میکانزم کو ریگولیٹ کرنے کی جامع اور مؤثر حکمت عملی تشکیل دے تاکہ سرکاری نرخوں کی پابندی یقینی بنا کر عوام کوریلیف فراہم کیا جا سکے۔مہنگائی سے نمٹنے کا دوسرا طریقہ عوام کی قوتِ خرید بڑھانا ہے‘ حکومت کو اس طرف بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔