اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پٹرولیم قیمتیں:اثرات اور خدشات

حکومت نے اعلان کیاہے کہ اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہفتہ وار کے بجائے یومیہ بنیادوں پر کیا جائے گا۔   وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے اگلے روز پریس کانفرنس میں اس نئے طریقہ کے حوالے سے بتایا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) روزانہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کر کے اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے گی اور قیمتوں میں جو بھی اتار چڑھاؤ ہو گا وہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گا۔ پٹرولیم کی قیمتوں کے تعین کا یہ طریقہ کار ایسے وقت میں لاگو کیا جا رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان ہے ۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران تیل کی قیمتوں میں 14فیصد اضافہ ہو چکا اور بینک آف امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ تنازع کے جلد حل کی کوئی صورت نہ نکلی تو تیل 100ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتا ہے۔پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کی صورت میں عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کا اثر بھی روزانہ کی سطح پر عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔ یہ حقیقت بھی مد نظر رہنی چاہیے کہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی گرانی صرف تیل کی عالمی قیمتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بڑا حصہ ٹیکسوں اور لیویز کا ہے۔

مثال کے طور پر یکم جولائی سے نافذ کی گئی کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے تحت ڈیزل اور پٹرول پر پانچ روپے فی لٹر وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ ڈیزل پر 80روپے اور پٹرول پر 70روپے فی لٹر پٹرولیم لیوی اس کے علاوہ ہے‘ جبکہ تقریباً 20 روپے فی لٹر کسٹم ڈیوٹی بھی شامل کی جاتی ہے۔ یوں صرف ٹیکسوں اور لیویز کی مد میں پٹرول پر تقریباً 95روپے فی لٹر کا اضافی بوجھ برداشت صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے؛ چنانچہ تیل کی عالمی قیمتیں کم ہوں بھی تو عوام کو اس کا کچھ خاص فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔ اگرچہ پٹرولیم کی قیمتوں کو سرکاری کنٹرول سے نکال کر مارکیٹ کی حرکیات پر چھوڑنا اصولی طور پر درست نقطہ نظر ہے اور آزاد معیشت کے مزاج کے موافق ہے‘ تاہم اس میں بنیادی سوال شفافیت اور ریگولیٹری میکانزم کی صلاحیت کا ہے۔ قیمتوں کی ڈی ریگو لرائزیشن کا فائدہ صارف کواسی صورت میں مل سکتا ہے جب ان قیمتوں کو شفافیت کیساتھ نافذ کیا جائے‘ اور یہ کام مؤثر ریگولیٹری اتھارٹی کے بغیر ممکن نہیں۔ کیا موجودہ حالات میں ہمارے تیل اور گیس کے ریگولیٹری ادارے سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں صارفین کے مفاد کا تحفظ یقینی بنائے گا؟ بادی النظر میں ایسا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

پٹرولیم کی قیمتوں کا اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں بہت بڑا اثر ہوتا ہے ؛ چنانچہ یہ خدشہ ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھنے کیساتھ اشیا اور خدمات کے نرخوں میں اضافہ تو بلا تاخیر کر لیا جائے گا مگر قیمتوں میں کمی کی صورت میں یومیہ بنیادوں پراشیا اور خدمات کے نرخوں کے جائزے کا کیا طریقہ کار ہو گا؟ قیمتوں کی ڈی ریگولرائزیشن‘ بشرطیکہ منصفانہ اور شفاف ہو‘معیشت کیلئے مثبت اثرات کی حامل ثابت ہو تی ہے کیونکہ اس سے مارکیٹ کی قوتوں کو زیادہ کردار ملتا ہے اور مصنوعی قیمتوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔ تاہم پٹرولیم مصنوعات کے معاملے میں اس کا حقیقی فائدہ اسی وقت ممکن ہے جب حکومت ان مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور لیویز کا بھی جائزہ لے اور ان محصولات میں معتدبہ کمی کرے نیز ریگولیٹری اقدامات کو بھی اس قدر مؤثر بنایا جائے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا یہ نظام صارفین کے استحصال کا سبب نہ بنے ۔

قیمتوں کو تو آزاد کر دیا جائے مگر ٹیکسوں کا بوجھ اسی طرح اور ریگولیٹری میکانزم کمزورہو تو قیمتوں کی ڈی ریگولرائزیشن کے مثبت نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایک متوازن پالیسی اختیار کرے۔ ایک طرف عالمی منڈی کے مطابق شفاف قیمتوں کا نظام نافذ کیا جائے تو دوسری جانب ٹیکسوں کی شرح کو معقول سطح پر رکھا جائے اور ریگولیٹری نظام کو مؤثر بنایا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں