خسرہ کا پھیلاؤ
ملک میں خسرہ ایک بار پھر تشویشناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک خبر کے مطابق رواں سال اب تک ملک میں خسرہ کے آٹھ ہزار سے زائد مریض اور 102اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان دنیا میں خسرہ سے سب سے زیادہ متاثرہ دس ملکوں میں شامل ہے۔ امریکی سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے مطابق رواں برس مئی میں 11037کیسوں کیساتھ پاکستان دنیا میں پانچویں نمبر پر تھا۔یہ صورتحال صحتِ عامہ کے موجودہ ڈھانچے کا ازسرِنو جائزہ لینے کا تقاضا کرتی ہے۔ خسرہ کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات میں بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے نہ لگوانا‘ بیماری سے متعلق عوامی آگاہی کی کمی‘ بنیادی صحت کے ڈھانچے کی کمزوری شامل ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں اب بھی چھ لاکھ سے زائد بچے حفاظتی ٹیکوں سے مکمل طور پر محروم ہیں۔

ایسے حالات میں اس وبا پر قابو پانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ حکومت کو خسرہ کے بڑھتے پھیلاؤ کے پیشِ نظر فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ متاثرہ اضلاع میں خصوصی ویکسی نیشن مہمات‘ حفاظتی ٹیکوں کی بلا تعطل فراہمی‘ طبی عملے کی جدید خطوط پر تربیت‘ بیماری کی بروقت تشخیص کے نظام کو مضبوط بنانے اور عوام میں مؤثر آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے لاپروائی نہ کریں‘ بچوں کو بروقت ٹیکے لگوائیں۔