اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

غذائی سلامتی اورموسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز

ملکِ عزیز پاکستان کو جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ان میں موسمیاتی تبدیلی سرفہرست ہے۔ یہ مسئلہ اب صرف ماحولیات تک محدود نہیں بلکہ معیشت‘ زراعت‘ خوراک‘ صحت اور سماجی استحکام کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ زرعی ملک ہونے کے ناتے پاکستان کی غذائی سلامتی کا دارو مدار بڑی حد تک موسمی حالات پر ہے لیکن درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ‘ بارشوں کے معمولات میں تبدیلی‘ سیلابوں کی شدت‘ خشک سالی کے دورانیے میں اضافہ اور پانی کی قلت نے زرعی شعبے کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ وفاقی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے تحقیقی ادارے گلوبل چینج امپیکٹ سٹڈیز سنٹر کے مطابق رواں صدی کے اختتام تک پاکستان میں اوسط درجہ حرارت عالمی اوسط سے زیادہ بڑھنے کا امکان ہے جس سے گندم کی پیداوار میں تین سے 16 فیصد اور چاول کی پیداوار میں 12 سے 22 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے۔ اگرچہ یہ قریب پون صدی بعد کا منظرنامہ ہے تاہم اس کی شروعات ابھی سے ہو چکی ہے اور ہم بچشم خود اس کے اثرات کو دیکھ رہے ہیں۔ ہر سال بڑھتا ہوا درجہ حرارت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کوئی نہیں کر سکتا مگر خوراک کی پیداوار کے وسائل اس سے کس قدر متاثر ہو رہے ہیں یہ فصلوں کی اوسط پیداوار کے اعدادو شمار سے واضح ہو جاتا ہے۔

مالی سال 2025-26ء کے اکنامک سروے کے مطابق زراعت کی مجموعی نمو 2.8فیصد رہی جبکہ چاول‘ گندم‘ کپاس‘ گنا اور مکئی جیسی اہم فصلوں کی نمو 0.65 فیصد تھی۔ گندم‘ چاول اور گنے کی پیداوار میں یہ اضافہ آبادی میں 2.55فیصد اضافے کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر بڑی فصلوں خاص طور پر خوراک کے ذرائع پیداوار کا یہی رجحان رہا تو مستقبل میں خوراک کی طلب اور رسد کے درمیان خلیج مزید بڑھ جائے گی اور درآمدی خوراک پر انحصار مزید بڑھ جائے گا۔ ضروری ہے کہ اس حوالے سے کوئی وقت ضائع کیے بغیر اقدامات کیے جائیں۔ پانی کی بروقت اور حسب ضرورت فراہمی میں مسائل زرعی بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی پانی کی کمی کے شکار ممالک میں شمار ہونے لگا ہے۔ گلیشیرز کا تیز ترین پگھلاؤ‘ بارشوں کے بدلتے معمولات اور زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال نے آبی وسائل پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ نہری نظام کی فرسودگی اور پانی کے ضیاع نے بھی مسئلے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اس صورتحال میں محض روایتی زرعی طریقوں پر انحصار کافی نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے زرعی ماڈل کو موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق نئی بنیادوں پر استوار کرے۔ ایسے بیج متعارف کرائے جائیں جو زیادہ درجہ حرارت‘ کم پانی اور موسمی شدت کو برداشت کر سکیں۔ جدید آبپاشی نظام‘ خصوصاً ڈرپ اور سپرنکلر ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے تاکہ پانی کا ضیاع کم ہو۔ زرعی تحقیق کے اداروں کو مضبوط بنایا جائے اور کسانوں کو جدید تربیت اور موسمی پیش گوئیوں تک بروقت رسائی فراہم کی جائے تاکہ وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔ زرعی پالیسیوں میں موسمیاتی خطرات کو مرکزی حیثیت دینا ہو گی اور فصلوں کی انشورنس‘ موسمیاتی آفات سے متاثرہ کسانوں کیلئے مالی معاونت‘ آبی ذخائر کی تعمیر‘ شجرکاری اور ماحول دوست زرعی پالیسیوں پر تیزی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔

فوڈ سکیورٹی صرف زرعی پیداوار کا مسئلہ نہیں‘ قومی سلامتی کا بھی ایک اہم پہلو ہے۔ خوراک کی قلت مہنگائی‘ غربت‘ بیروزگاری اور سماجی بے چینی کو جنم دیتی ہے۔ اس لیے موسمیاتی تبدیلی کو مستقبل کا نہیں بلکہ آج کا بحران سمجھتے ہوئے قومی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔ آج دانشمندانہ فیصلے کیے گئے تو زرعی شعبے کو محفوظ اور غذائی تحفظ کو یقینی بنا یا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات ملک کو ایسے غذائی اور معاشی بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں جس سے نکلنا انتہائی دشوار ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں