اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پیشگی حفاظتی اقدامات کی ضرورت

این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ رواں ہفتے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں گلیشیرز کے تیز پگھلاؤ اور گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کے باعث خطرناک سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ گزشتہ روز بھی طوفانی بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے مختلف واقعات میں چار افراد جاں بحق ہوئے جبکہ وادی نیلم میں بادل پھٹنے سے آنیوالا سیلابی ریلا اپنے ساتھ درجنوں دکانیں‘ مکانات اور گاڑیاں بہا کر لے گیا۔ ملکِ عزیز تقریباً ہر سال مون سون کے موسم میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوتا ہے۔ ان نقصانات میں بڑی حد تک انسانی غفلت بھی شامل ہوتی ہے۔ دریاؤں‘ ندی نالوں اور قدرتی آبی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات ہر سال سیلابی ریلوں کی زد میں آتی ہیں اور پھر جانی و مالی نقصان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔

آبی گزرگاہوں سے تجاوزات کا بلاامتیاز خاتمہ‘ دریا‘ ندی نالوں اور گلیشیائی علاقوں کی مسلسل نگرانی‘ حساس مقامات پر جدید وارننگ سسٹم کی تنصیب‘ ریسکیو اداروں کی پیشگی تعیناتی اور مقامی انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح شہری علاقوں میں ممکنہ اربن فلڈنگ سے محفوظ رہنے کیلئے سیوریج نالوں کی بروقت صفائی بھی ناگزیر ہے۔ ہر سال ایک جیسے سانحات اس بات کے متقاضی ہیں کہ متعلقہ ادارے ہنگامی ردِعمل کے بجائے مستقل‘ سائنسی اور دوررس پالیسیوں کو اختیار کریں تاکہ انسانی جانوں اور قومی املاک کا بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں