اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بچوں کے خلاف جرائم

نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 31 دسمبر 2025ء تک ملک بھر میں بچوں سے زیادتی اور جنسی جرائم کے 17348 مقدمات درج ہوئے۔ سب سے زیادہ‘ 74فیصد مقدمات پنجاب میں درج ہوئے۔ یہ اعداد و شمار حکومت‘ قانون نافذ کرنے والے اور بچوں کے تحفظ سے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ ملک میں بچوں کیخلاف بڑھتے جرائم کے کئی اسباب ہیں۔ بدنامی کے خوف سے مجرموں کیخلاف قانونی کارروائی سے گریز‘ اندراج شدہ مقدمات میں مجرموں کیخلاف بروقت اور مؤثر کارروائی کا فقدان‘ نگرانی کا کمزور نظام‘ اور سب سے بڑھ کر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بچوں تک مجرموں کی آسان رسائی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

ملک میں انسدادِ ریپ اور بچوں کے تحفظ کیلئے قانونی فریم ورک تو موجود ہے‘ مگر اکثر اوقات ملزمان مؤثر تفتیش‘ فوری ٹرائل‘ فرانزک سہولتوں اور گواہوں کی عدم موجودگی کے باعث چھوٹ جاتے ہیں۔ ایسے ملزمان کو سزا دلانے کیلئے ہر ضلع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ‘ تربیت یافتہ کیس منیجرز اور ایسے مراکز ناگزیر ہیں جہاں طبی‘ نفسیاتی‘ قانونی اور فرانزک مدد ایک ہی جگہ میسر ہو۔ بچوں کی حفاظت محض سماجی خدمت نہیں بلکہ ریاست اور معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں