اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پٹرول ریلیف؟

پٹرول کی قیمت میں گزشتہ دس روز کے دوران تقریباً 45 روپے فی لٹر اضافے کے باعث عام آدمی کی مشکلات میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ نقل و حمل کے اخراجات اور اشیائے خورونوش سمیت روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کے نرخ بڑھ چکے ہیں۔ اگرچہ اس مشکل صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے وفاقی حکومت نے موٹر سائیکل‘ رکشا اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کیلئے پٹرول پر فی لٹر 100 روپے ریلیف فراہم کرنے کی سکیم شروع کی ہے‘ مگر حکومت کی طرف سے عجلت میں کیے گئے اس فیصلے کی وجہ سے سکیم کے آغاز ہی پر پٹرول پمپ مالکان اور حکومت کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے ہے‘ اور پمپ مالکان نے اس سکیم کو ناقابلِ عمل قرار دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے میں پٹرول پمپ مالکان کو اعتماد میں لے اور انکے تحفظات دور کرے تاکہ عوام کو فوری ریلیف میسر آ سکے۔

اصولی طور پر پٹرول کی قیمت میں براہِ راست ریلیف دینے کیلئے پٹرولیم لیوی میں عارضی کمی ایک زیادہ آسان اور مؤثر راستہ ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں صارف کو کسی رجسٹریشن‘ ٹوکن یا کسی اضافی مرحلے سے گزرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور ریلیف پٹرول خریدتے ہی قیمت میں ظاہر ہو جائے گا۔ عوام اس وقت کسی پیچیدہ نظام یا طویل رجسٹریشن کے نہیں‘ فوری ریلیف کے منتظر ہیں۔ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے عام آدمی کیلئے زندگی مشکل بنا دی ہے‘ ایسے میں اگر حکومت نے رعایت کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو وہ بروقت صارفین تک پہنچنی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں