اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

خلیج میں بڑھتی کشیدگی

خلیج عرب میں ابھرنے والی کشیدگی نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ عالمی توانائی اور بین الاقوامی تجارت کی شہ رگ رہا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ یہاں رونما ہونے والے واقعات پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔ حالیہ بحران بھی علاقائی تنازع سے بڑھ کرعالمی اقتصادیات کو لاحق سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ اس بحران کا سب سے پہلا اور براہِ راست اثر عالمی تیل مارکیٹ پر پڑا ہے۔ سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور پائپ لائن پر حوثی ملیشیا کے حملوں اور تیل سپلائی معطل ہونے کا بین الاقوامی منڈیوں پر گہرا اثر دیکھا گیا ہے۔ ایک ہفتے میں خام تیل کی قیمتیں سو ڈالر کی نفسیاتی حد کو عبور کر کے اب 107 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر چکی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں یہ غیر معمولی اضافہ دنیا بھر کے تیل درآمد کرنے والے ممالک کیلئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں کیونکہ خام تیل کی گرانی براہِ راست پٹرولیم مصنوعات‘ بجلی کی پیداوار اور صنعتی لاگت میں اضافے کا سبب بنتی ہے‘ جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لے رہا ہے۔ توانائی بحران کے ساتھ ساتھ عالمی بحری تجارتی راستے بھی اس وقت شدید خطرات سے دوچار ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے گرد ونواح بالخصوص باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری تجارتی راستوں کی ابتر صورتحال نے عالمی لاجسٹکس کو مفلوج کر دیا ہے۔ اس عدم تحفظ کے نتیجے میں شپنگ کمپنیاں انتہائی مہنگے اور طویل متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ جو بحری جہاز اس روٹ پر چل رہے ہیں وہ ایک ہزار سے چار ہزار ڈالر فی کنٹینر تک ہنگامی اضافی چارجز وصول کر رہے ہیں۔ یہ بھاری اخراجات نہ صرف بین الاقوامی تجارت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ صارفین تک پہنچنے والی روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ عالمی تجارتی حجم میں یہ تعطل ایسے وقت میں آیا ہے جب دنیا ابھی کورونا کی عالمی وبا اور یوکرین جنگ کے اثرات سے سنبھلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق 2025ء میں عالمی تجارتی حجم کی شرح نمو 2.4فیصد ریکارڈ کی گئی تھی‘ تاہم خلیجی جنگ اور بحری راستوں کی ناکہ بندی کے باعث رواں سال یہ شرح نمو سکڑ کر محض 0.5 فیصد تک رہنے کا خدشہ ہے۔

یہ گراوٹ ایسی عالمی کساد بازاری کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے جو دنیا بھر میں بیروزگاری‘ صنعتی جمود اور معاشی بحرانوں کو جنم دے۔ اس معاشی تباہ کاری کا سب سے زیادہ اثر ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک پر پڑے گا جو عالمی معاشی جھٹکوں کو برداشت کرنے کیلئے مالیاتی وسائل نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ فروری میں ایران پر امریکہ اور سرائیل کے حملوں کے آغاز سے اب تک پچیس سے زائد ممالک مالی بحران کا شکار ہو کر ورلڈ بینک کے کرائسس فنڈز سے رجوع کر چکے ہیں۔ یہ ممالک اپنی معیشتوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے اور خوراک و توانائی کی قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے کیلئے ہنگامی امداد کے طلبگار ہیں۔ خدشہ ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع طول پکڑتا ہے تو دنیا بھر میں غربت‘ بھوک اور افلاس کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔یہ صورتحال اگر مزید ابتر ہوئی تو اس کی تپش سے نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ باقی دنیا کو بھی شدید معاشی و سکیورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ بااثر علاقائی اور عالمی فریق اور ادارے حرکت میں آئیں اور اس کشیدگی کو سمیٹنے کی کوشش کریں۔ اگرچہ جنگ کے دو بنیادی فریقوں‘ ایران اور امریکہ کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ اور گہرے تعلقات ہیں اور ان متوازن تعلقات کی وجہ سے پاکستان ثالثی کیلئے بہترین پوزیشن میں ہے‘ پاکستان کی ثالثی کوششیں جاری بھی ہیں‘ تاہم دیگر بااثر عالمی و علاقائی ممالک کو بھی چاہیے کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا ساتھ دیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے اور عالمی معیشت کو دوبارہ استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں