کپاس کی پیداوار
امریکن ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27ء میں پاکستان میں کپاس کی کل پیداوار حکومتی ہدف‘ 96لاکھ گانٹھوں کے مقابلے میں محض 49 لاکھ گانٹھوں تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مقامی سپننگ انڈسٹری کو اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے سالانہ تقریباًایک کروڑ گانٹھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کپاس کی مقامی پیداوار میں کمی کے باعث اس بڑے شارٹ فال کو پورا کرنے کیلئے رواں مالی سال تقریباً 50 لاکھ سے زائد گانٹھیں درآمد کرنا پڑیں گی‘ جن کی مالیت دو ارب ڈالر سے زائد بنتی ہے‘جس سے قومی خزانے پر بڑا بوجھ پڑے گا۔

مالی سال 2014-15ء میں کپاس کی مقامی پیداوار ایک کروڑ 40لاکھ گانٹھوں سے زائد تھی لیکن گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس میں تقریباً 65فیصد کمی ہوئی ہے۔ کپاس کی پیداوار میں کمی کی متعدد وجوہات ہیں لیکن سب سے اہم حکومتی عدم توجہی ہے۔ دیگر فصلوں کی طرح حکومت کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے بھی کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھا رہی۔ حکومت زرعی ترقی کے دعوئوں کو عملی قالب میں ڈھالنے کیلئے کسانوں کو کپاس سمیت دیگر فصلوں کے معیاری بیج‘ کھاد‘ ادویات اور جدید زرعی مشینری فراہم کرے تاکہ ملکی ضروریات مقامی پیداوار سے پوری ہو سکیں۔