مفاہمت کا ناگزیر راستہ
حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکراتی کوششیں اور پھر ان کا اچانک ڈیڈ لاک کا شکار ہو جانا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ سیاسی قیادت ابھی تک سیاسی بحران کی سنگینی کا ادراک کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس وقت عالمی جغرافیائی و سیاسی حالات اور معاشی صورتحال کا یہ تقاضا ہے کہ فریقین اپنی ضد‘ انا اور ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر مذاکرات کا سلسلہ وہیں سے دوبارہ شروع کریں جہاں سے یہ ٹوٹا تھا۔ ملک کا مفاد سڑکوں کی سیاست‘ مار دھاڑ‘ جلاؤ گھیراؤ اور دھمکی آمیز بیانات میں نہیں بلکہ بات چیت‘ مفاہمت اور تحمل و بردباری میں ہے۔ تنے ہوئے رسے پر چلتی ہماری معیشت اس وقت کسی تصادم‘ احتجاج یا جلاؤ گھیراؤ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔پاکستان کے عوام گزشتہ کئی برس سے جس سیاسی تلخی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں‘ اس کا سیدھا اثر ملکی معیشت اور سیاسی نظام پر پڑا ہے۔ سرمایہ کار ملک سے جا رہے ہیں‘ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے اور انتظامی مسائل کا انبار ہر گزرتے دن کیساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ کوئی بھی غیر ملکی سرمایہ کار یا عالمی ادارہ اس ملک میں پیسہ لگانے کو تیار نہیں ہوتا جہاں ہر دوسرے مہینے شٹر ڈاؤن اور ملک بند کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ جب سے ملک میں سیاسی عدم استحکام نے مستقل ڈیرے ڈالے ہیں‘ معاشی مسائل بھی سنگین ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک کے پچیس کروڑ عوام حالات سے سخت مایوس اور سیاسی قیادت سے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر کب تک ملکی مفاد کو ذاتی اناؤں پر قربان کیا جاتا رہے گا؟ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی روش کو تبدیل کریں۔ ہماری سیاسی قیادت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاست میں ضد‘ اَنا اور جمود مسائل تو پیدا کر سکتے ہیں لیکن مسائل کا حل نہیں دے سکتے۔ کارِ سیاست لچک‘ تدبر‘ فہم وفراست اور دوراندیشی کا نام ہے‘ جہاں ملک و قوم کی خاطر اَنا کو تیاگنا اور ذاتی و گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنا پڑتا ہے۔ مسائل خواہ کتنے ہی گمبھیر اور سنگین کیوں نہ ہوں ان کا پائیدار اور دیرپا حل صرف بات چیت کی میز پر ہی نکل سکتا ہے۔ اس وقت سیاسی مسائل کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی قیادت کی تند و تیز بیان بازی اور انا پرستی ہے حالانکہ سیاست مفاہمت کا نام ہے۔ اس میں کچھ بھی حرفِ آخر نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی مخاصمت دائمی ہوتی ہے۔ حکومت ہو یا اپوزیشن‘ دونوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ ایک دوسرے کو دیوار سے لگانے کی پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی لہٰذا بہتر ہو گا کہ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔
قبل ازیں پونے دو سال کے بعد فریقین میں مذاکرات کا آغاز ہوا تھا‘ متعدد امور پر اتفاق بھی ہو گیا تھا اور پوری قوم بریک تھرو کے حوالے سے پُرامید تھی مگر بدقسمتی سے بعض اختلافی نکات نے اس پورے عمل کو سبوتاژ کر دیا۔ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ آپ تمام مطالبات منوا کر ہی اٹھیں گے بلکہ اس کا مطلب کچھ لو اور کچھ دوکے اصول پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ اگر فریقین ضد پکڑ لیں اور اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹ جائیں تو مذاکرات کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس وقت نہ صرف حکومت اور پی ٹی آئی بلکہ حکومت کی اتحادی اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو بھی آگے آنا چاہیے تاکہ ایک گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا آغاز ہو سکے کہ یہی ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کا واحد راستہ ہے۔ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے جائز تحفظات کو سننا اور ان کا احترام کرنا ہو گا۔
فریقین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر تلخ بیانات کا تبادلہ بند کریں‘ پس پردہ رابطوں کو باقاعدہ مذاکرات کی شکل دیں اور ملک کو اس غیر یقینی صورتحال سے باہر نکالیں۔ عوام اب جلاؤ گھیراؤ سے تنگ آ چکے ہیں‘ وہ امن‘ روزگار اور استحکام چاہتے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ سیاسی قیادت بصیرت کا مظاہرہ کرے گی اور ملک کو ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی طرف لے جانے کیلئے مذاکرات کا راستہ اپنائے گی کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔