اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

خوفناک فضائی آلودگی

ملک کے میدانی علاقوں میں فضائی آلودگی ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے اور موسم کی تبدیلی کیساتھ یہ مسئلہ شدت اختیار کر جاتا ہے۔ پنجاب انوائرمنٹ پروٹیکشن اتھارٹی کے آفیشل ایئر کوالٹی انڈیکس ڈیش بورڈ کے مطابق آٹھ اکتوبر کی صبح لاہور کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 201 تک پہنچ گیا‘ جو غیر صحت بخش زمرے میں آتا ہے۔ سب سے زیادہ اے کیو آئی ملتان روڈ مانیٹرنگ سٹیشن نے ریکارڈ کیا‘ جو تقریباً 500 تھا۔ صرف لاہور ہی نہیں بلکہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی حالیہ دنوں میں فضائی آلودگی میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ ملک کے اکثر میدانی علاقے سردیوں کے آغاز پہ سموگ نامی آفت کا شکار ہوتے ہیں مگر لاہور‘ جو ملک کا دوسرا بڑا صنعتی و تجارتی شہر ہے‘ گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل اس مسئلے سے دوچار ہے۔

اس بے پناہ آلودگی کے کئی اسباب ہیں‘ مثلاً درختوں کی کٹائی‘ گاڑیوں کا دھواں‘ دھول مٹی اور گردو غبار۔ آبادی کے تناسب سے شہر میں درخت نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگرچہ انتظامیہ ہر سال شہر کو سموگ زدہ قرار دے کر ہنگامی اقدامات بھی کرتی ہے مگر یہ قطعی ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ اس کے لیے صنعتی یونٹس کے ساتھ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف اقدامات بھی ضروری ہیں‘ البتہ بے ہنگم آبادی کو کنٹرول‘ ٹریفک کا نظام ٹھیک کر کے اور بہتر ٹائون پلاننگ سے ہی سموگ کا مستقل تدارک یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں