اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

معاشی استحکام اور عوامی بقا کا چیلنج

آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ معاشی جائزے کے کامیاب اختتام پر سٹاف لیول معاہدے کا اعلامیہ جاری کر کے جہاں حکومت کیلئے ایک ارب 21کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کی راہ ہموار کی ہے‘ وہاں ملکی معیشت پر عائد شرائط کو بھی مزید سخت کر دیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے ایک طرف میکرو اکنامک استحکام‘ مہنگائی کی شرح کنٹرول کرنے اور جی ڈی پی میں معمولی بہتری کی تحسین کی ہے تو دوسری طرف فیول سبسڈی کے فوری خاتمے‘ توانائی کے شعبے میں خسارہ کم کرنے اور وصولیوں کو بہتر بنانے کیلئے سخت اصلاحات کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جولائی 2025ء تا مارچ 2026ء میں پاکستان کی معاشی ترقی چار فیصد رہی‘ مشرق وسطیٰ بحران سے شرح نمو 3.6 فیصد تک متاثر ہوئی‘ مئی 2026ء میں افراطِ زر بلند ترین سطح پر پہنچا‘ ترسیلاتِ زر نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رکھا۔ یہ اعلامیہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں یمن کی جنگ اور باب المندب پر منڈلاتے جنگی خطرات نے عالمی معیشت اور سپلائی چین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ بیرونی قرضوں کے تقاضوں‘ عالمی بحران کے اثرات اور اندرونِ ملک شدید معاشی دباؤ کے شکار عوام کی بقا کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ایران‘ امریکہ جنگ کے بعد یمن اور باب المندب کا تنازع پاکستان جیسی درآمدات پر انحصار کرنیوالی معیشت کیلئے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ باب المندب وہ گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی کل بحری تجارت کا تقریباً 12 فیصد اور خام تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات‘ خاص طور پر خام تیل اور ایل این جی کیلئے مذکورہ دونوں خطوں ہی پر انحصار کرتا ہے۔ اگر جنگ طول پکڑتی ہے یا باب المندب مکمل طور پر بلاک ہو جاتا ہے تو عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخی بلند سطح پر پہنچ سکتی ہیں‘ جس کا براہِ راست اثر پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر اور مقامی قیمتوں پر پڑے گا۔

اس خدشے کے تناظر میں‘ آئی ایم ایف کی جانب سے پٹرول سبسڈی کو فوراً مرحلہ وار بند کرنے کا مطالبہ عوام کیلئے سخت مشکلات کا باعث بنے گا۔ پٹرول اور ڈیزل صرف ٹرانسپورٹ ہی نہیں بلکہ پاکستان کی پوری معیشت کیلئے ایندھن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب زراعت کی لاگت میں اضافہ‘ فیکٹریوں کے پیداواری اخراجات میں اضافہ اور ٹرانسپورٹیشن اخراجات بڑھنے سے اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں پے درپے اضافہ ہے۔ عوام پہلے ہی بھاری یوٹیلیٹی بلوں‘ محدود ہوتی قوتِ خرید اور گرانی کے چڑھتے گراف سے نبرد آزما ہیں۔ ایسے میں اگر حکومت پٹرول پر سے سبسڈی ختم کر کے ٹیکسوں اور لیوی کا بوجھ برقرار رکھتی ہے تو متوسط اور غریب طبقے کیلئے سانس لینا بھی محال ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ پٹرول جیسی بنیادی ضرورت کی اشیا کے ذریعے بالواسطہ ٹیکس اکٹھا کرنا حکومتوں کیلئے آسان ہدف رہا ہے مگر سماج اور معیشت پر اس پالیسی کے اثرات تباہ کن ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس خسارہ پٹرول پر عائد لیوی کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کر کے پورا کرے۔ مالیاتی خسارے کا حل بنیادی اشیائے ضروریہ پر ٹیکس لگانا نہیں بلکہ سٹرکچرل اصلاحات ہیں۔ زراعت‘ رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹر سمیت متعدد شعبے اپنی استعداد سے نہایت کم ٹیکس دے رہے‘ ان کو ڈیجیٹل ٹیکس نظام کے دائرے میں لا کر ٹیکس مساوات قائم کرنے سے ٹیکس خسارہ کم ہو سکتا ہے اور نچلے طبقے کو ریلیف دینے کی گنجائش بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارے کی شرائط اپنی جگہ مگر حکومت کو عوامی بقا و تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگی خطرات اور آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے بیرونی چیلنجز کا مقابلہ داخلی استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔ اور داخلی استحکام تب آئے گا جب عوام کو معاشی ریلیف میسر آئے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں