اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ

نیپرا نے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں ایک روپے 11پیسے فی یونٹ کا اضافہ کر دیا ہے جس سے صارفین پر تقریباً 19ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ رواں برس اپریل میں کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک میں بجلی کی قیمتوں میں 155 فیصد تک اضافہ کیا جا چکا ہے۔ یہ اضافہ کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی ساختی بگاڑوں کا مجموعہ ہے۔ کیپسٹی پیمنٹس کا غیر معمولی بوجھ‘ روپے کی گراوٹ‘ درآمدی ایندھن پر حد سے زیادہ انحصار اور گردشی قرضے کا مسلسل پھیلاؤ وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے بجلی کی لاگت کو ناقابلِ برداشت سطح تک پہنچا دیا ہے۔ نتیجتاً توانائی کا پورا ڈھانچہ پیداواری کارکردگی کے بجائے مالی دباؤ کا مرکز بن چکا ہے۔ اس پالیسی ناکامی کا تمام تر بوجھ براہِ راست عوام اٹھا رہے ہیں۔

صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب بجلی کے بل گھریلو کرایوں سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔ مہنگی بجلی نے چھوٹے کاروبار‘ صنعتوں اور زرعی شعبے کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ کر کے انہیں تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے جس کے معیشت پر اثرات ظاہر و باہر ہیں۔ ضروری ہے کہ توانائی کے پورے ڈھانچے کو ازسرنو ترتیب دیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ آئے روز بجلی کی قیمت بڑھانے کے بجائے شعبہ توانائی کے نقائص کو مستقل بنیادوں پر دور کرے۔ علاوہ ازیں عوام کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار میں اضافے کی طرف بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں