اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

گورنر راج ،ایمرجنسی یا لانگ مارچ کا خاتمہ؟

ہفتہ کے روز ایوانِ صدر میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی ملاقات میں ملک کی سیاسی اور سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اورمنگل کو سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس پیش رفت کو خیبرپختونخوا میں ایمر جنسی کے نفاذ پر حکومتی سطح پر اتفاقِ رائے سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ آج اتوار کے روز وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں اس فیصلے کی منظوری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ منگل کو پارلیمان کے اجلاس میں ممکنہ طور پر اس فیصلے کی توثیق کی جا سکتی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں غیر معمولی آئینی آپشن کا عندیہ کئی روز سے دیا جارہا تھا تاہم ایک امید سی تھی کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین بات چیت کے نتیجے میں کوئی پیش رفت ان خدشات کو ٹال سکتی ہے ‘ بدقسمتی سے تادم تحریر ایسی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی اوروفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کا عندیہ سامنے آیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی وفاقی حکومت کیلئے سب سے بڑی تشویش ہے اور اس صورتحال میں صوبائی حکومت سے تعاون کی توقع کی جاتی ہے‘ تاہم صوبائی حکومت کا رویہ وفاق اور صوبے کے تعلقات کار میں خلیج ثابت ہوا ۔

اس حال میں اسلام آباد کی جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا حالیہ لانگ مارچ صوبائی حکومت اور وفاق کے معاملات میں اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ جمہوری نظام حکومت میں ایمرجنسی کوئی مثالی حل نہیں مگروفاق کی تشویش‘ چیلنجز اور مشکلات آئین میں دیے گئے اس آپشن کو جوازمہیا کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت کی اولین ترجیح دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنا اور قومی سلامتی کا تحفظ یقینی بنانا ہے لیکن صوبائی حکومت سیاسی ہیجان کو کم کرنے پر آمادہ نہیں ۔ اس صورتحال کو بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ عوام کو سیاسی جماعتوں کے کچھ انتہائی ذاتی نوعیت کے معاملات کا بھگتان بھگتنا پڑتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے میں پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت نے کتنے ہی لانگ مارچ کیے‘ عوام نے جنہیں بڑی تکلیف سے برداشت کیا ۔ اسلام آباد پچھلے کئی ہفتوں سے کنٹینروں کے حصار میں ہے۔ کیا اس سے دنیا میں پاکستان کا اچھا تاثر جاتا ہے؟ ایک ملک جو خطے میں اور عالمی سطح پر قیام امن کے لیے کردار ادا کررہا ہے اس کے اپنے دارالحکومت میں یہ تناؤ پاکستان کے عالمی تشخص کیلئے ناموافق ہے۔ احتجاج خواہ سیاسی ہوں یا غیرسیاسی ملکی معیشت کیلئے بے حد نقصان دہ ہیں۔

سیاسی جماعتوں کیلئے ان کی قیادت کی اہمیت اپنی جگہ مگر کیا یہ زیب دیتا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت عوامی مسائل‘ ملکی سلامتی اور سیاسی استحکام‘ سب کچھ داؤ پر لگا کر جب جی میں آئے وفاقی دارالحکومت پر ہلہ بول دے؟ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے‘ تاکہ ملکی اور عوامی مسائل کی جانب سنجیدگی اور توجہ کا ماحول بن سکے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین حالیہ دنوں مذاکرات ہوئے مگر اس لانگ مارچ کی شورش میں یہ بیل بھی منڈے نہ چڑھ پائی۔ بعد میں مولانا فضل الرحمن کو اس معاملے میں کردار ادا کرنے کیلئے درخواست کی گئی مگر اس سے پہلے کہ کوئی نتیجہ خیز پیش رفت سامنے آتی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کا عندیہ سامنے آگیا۔تاہم امکانات اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ خاص طور پر گزشتہ شام وزیراعظم سے مولانا فضل الرحمن کی ملاقات اور ایمرجنسی کے بجائے مسئلے کے حل کیلئے سیاسی مشاورت‘ باہمی اتفاقِ رائے اور تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت پر زور صورتحال کے سیاسی حل کے امکانات کو وضح کرتا ہے۔ تاہم گیند پی ٹی آئی کی کورٹ میں ہے۔بادی النظر میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو ایک انتخاب کرنا ہے‘ گورنر راج‘ایمرجنسی یا لانگ مارچ کا خاتمہ ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں