ایل پی جی کا بحران
ملک میں ایل پی جی کا بحران محض رسد میں کمی یا قیمتوں میں اضافے کا معاملہ نہیں بلکہ توانائی کے شعبے میں ناقص منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کا مظہر ہے۔ قدرتی گیس کی پیداوار میں کمی نے لاکھوں گھروں کو متبادل ایندھن کی طرف ایل پی جی کا ضرورت مند بنا دیا ہے لیکن ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کیلئے مناسب انتظامات موجود نہیں۔ پٹرولیم ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق ملک میں تقریباً ڈھائی کروڑ سے زیادہ گھرانے ایل پی جی سمیت متبادل ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ چھ برس میں ایل پی جی کی طلب میں سالانہ اوسطاً 7.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ آئندہ چھ برسوں میں یہ شرح 8 سے 8.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

یعنی مالی سال 2026ء میں24 لاکھ میٹرک ٹن رہنے والی طلب 2032ء تک بڑھ کر 41 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچنے کی امید کی جاتی ہے۔ اس وسیع طلب کے مقابلے میں ملک میں ایل پی جی ذخیرہ کرنے کی گنجائش محض 70 ہزار میٹرک ٹن ہے جبکہ اندرون ملک ترسیل کا مؤثر نظام بھی موجود نہیں۔ حکومت کو فوری طور پر ایل پی جی ذخیرے کی گنجائش بڑھانے‘ درآمدی ذرائع میں تنوع پیدا کرنے اور مقامی پیداوار میں اضافے کیلئے حکمت عملی تشکیل دینا ہو گی۔ ساتھ ہی اوگرا اور ضلعی انتظامیہ کی سطح پر مربوط نگرانی کا نظام بھی قائم کیا جائے تاکہ مقررہ قیمت پر فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔